Arabic (Original)
1085 صحيح حديث رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَسَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ عَنْ بُشَيْرٍ بْنِ يَسَارِ، مَوْلَى الأَنْصَارِ، أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ: أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَهْلٍ وَمُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ أَتَيَا خَيْبَرَ، فَتَفَرَّقَا فِي النَّخْلِ، فَقُتِلَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَهْلٍ فَجَاءَ عَبْدُ الرَّحْمنِ بْنُ سَهْلٍ، وَحُوَيِّصَةُ وَمُحَيِّصَةُ ابْنَا مَسْعُودٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَكَلَّمُوا فِي أَمْرِ صَاحِبِهِمْ، فَبَدَأَ عَبْدُ الرَّحْمنِ، وَكَانَ أَصْغَرَ الْقَوْمِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَبِّرِ الْكُبْرَ(قَالَ يَحْيى أَحَدُ رِجَالِ السَّنَدِ: لِيَلِيَ الْكَلاَمَ الأَكْبَرُ)فَتَكلَّمُوا فِي أَمْرِ صَاحِبِهِمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَسْتَحِقُّون قَتِيلَكُمْ أُوْ قَالَ صَاحِبَكُمْ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْكُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ أَمْرٌ لَمْ نَرَهُ قَالَ: فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ فِي أَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْهُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ قَوْمٌ كُفَّارٌ فَوَدَاهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قِبَلِه قَالَ سَهْلٌ: فَأَدْرَكْتُ نَاقَةً مِنْ تِلْكَ الإِبِلِ، فَدَخَلَتْ مِرْبَدًا لَهُمْ فَرَكَضَتْنِي بِرِجْلِهَا
English Translation
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Allah the Exalted says: 'I am as My servant expects Me to be. I am with him when he remembers Me. If he remembers Me within himself, I remember him within Myself. If he remembers Me in an assembly, I remember him in an assembly better than theirs. If he draws near to Me by a hand span, I draw near to him by a cubit. If he draws near to Me by a cubit, I draw near to him by a fathom. If he comes to Me walking, I come to him running.'"
Urdu Translation
انصار کے غلام بشیر بن یسار سے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما اور سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہما اور محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہما خیبر سے آئے اور کھجور کے باغ میں ایک دوسرے سے جدا ہو گئے، عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہما وہیں قتل کر دیے گئے۔ پھر عبدالرحمن بن سہل رضی اللہ عنہما اور مسعود کے دونوں بیٹے حویصہ رضی اللہ عنہ اور محیصہ رضی اللہ عنہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے مقتول ساتھی (عبداللہ رضی اللہ عنہ) کے مقدمہ میں گفتگو کی۔ پہلے عبدالرحمن رضی اللہ عنہما نے بولنا چاہا جو سب سے چھوٹے تھے۔ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”بڑے کی بڑائی کرو۔“(یحییٰ جو کہ سند کے راوی ہیں نے اس کا مقصد یہ) بیان کیا کہ جو بڑا ہے وہ گفتگو کرے، پھر انہوں نے اپنے ساتھی کے مقدمہ میں گفتگو کی۔ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اگر تم میں سے پچاس (50) آدمی قسم کھا لیں کہ عبداللہ کو یہودیوں نے مارا ہے تو تم دیت کے مستحق ہو جاؤ گے۔“انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم نے خود تو اسے دیکھا نہیں تھا (پھر اس کے متعلق قسم کیسے کھا سکتے ہیں؟) آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”پھر یہود اپنے پچاس آدمیوں سے قسم کھلوا کر تم سے چھٹکارا پا لیں گے۔“انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ کافر لوگ ہیں (ان کی قسم کا کیا بھروسہ) چنانچہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے عبداللہ بن سہل کے وارثوں کو دیت خود اپنی طرف سے ادا کر دی۔ سہل رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ان اونٹوں میں سے (جو آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے انہیں دیت میں دیے تھے) ایک اونٹنی کو میں نے پکڑا وہ تھان میں گھس گئی، اس نے ایک لات مجھ کو لگائی۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب القسامة/حدیث: 1085]
