Arabic (Original)
1070 صحيح حديث أَبِي مُوسى عَنْ زَهْدَمٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسى فَأُتِيَ ذَكَرَ دَجَاجَةً، وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللهِ أَحْمَرُ، كَأَنَّهُ مِنَ الْمَوَالِي، فَدَعَاهُ لِلطَّعَام، فَقَال: إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأَكُل شَيْئًا فَقَذِرْتُهُ؛ فَحَلَفْتُ لاَ آكلُ فَقَالَ: هَلُمَّ فَلأُحَدِّثْكُمْ عَنْ ذَاك إِنِّي أَتَيْتُ النَبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنَ الأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلهُ، فَقَالَ: وَاللهِ لاَ أَحْمِلُكمْ، وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ وَأُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَهْبِ إِبِلٍ، فَسَأَلَ عَنَّا، فَقَالَ: أَيْنَ النَّفَرُ الأَشْعَرِيُّونَ فَأَمَرَ لَنَا بِخَمْسِ ذَوْدٍ، غُرِّ الذُّرَى، فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قلْنَا: مَا صَنَعْنَا لاَ يُبَارَكُ لَنَا فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ، فَقُلْنَا: إِنَّا سَأَلْنَاكَ أَنْ تَحْمِلَنَا فَحَلَفْتَ أَنْ لاَ تَحْمِلَنَا، أَفَنَسِيتَ قَالَ: لَسْتُ أَنَا حَمَلْتُكُمْ، وَلكِنَّ اللهَ حَمَلَكُمْ، وَإِنِّي وَاللهِ إِنْ شَاءَ اللهُ، لاَ أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلاَّ أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَتَحَلَّلْتُهَا
English Translation
Zahdam narrated: We were with Abu Musa. He was brought food - he mentioned chicken - and among those present was a red-skinned man from the Banu Taym Allah, who seemed to be a freed slave. Abu Musa invited him to eat, but he said: "I saw it (the chicken) eating something disgusting, so I found it repulsive and swore not to eat it." Abu Musa said: "Come, let me tell you about that. I came to the Prophet (peace be upon him) with a group of the Ash'aris asking him for mounts. He said: 'By Allah, I will not provide you with mounts, and I have nothing to provide you with.' Then the Messenger of Allah was brought some camels as spoils. He asked about us and said: 'Where are the Ash'ari group?' He then ordered five fine white-humped camels to be given to us. When we departed, we said: 'What have we done? We will not be blessed in this.' We returned to him and said: 'We asked you for mounts and you swore not to provide us. Did you forget?' He said: 'It is not I who provided you with mounts; rather, it is Allah who provided you. And by Allah, if Allah wills, whenever I swear an oath and then see something better than it, I will do that which is better and expiate my oath.'"
Urdu Translation
سیدنا زہدم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی مجلس میں حاضر تھے (کھانا لایا گیا اور) وہاں مرغی کا ذکر ہونے لگا۔”بنی تیم اللہ“کے ایک سرخ رنگ والے آدمی وہاں موجود تھے، غالباً موالی میں سے تھے۔ انہیں بھی سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کھانے پر بلایا، وہ کہنے لگے کہ میں نے مرغی کو گندی چیزیں کھاتے ایک مرتبہ دیکھا تھا تو مجھے بڑی نفرت ہوئی اور میں نے قسم کھا لی کہ اب کبھی مرغی کا گوشت نہ کھاؤں گا۔ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ قریب آ جاؤ، (تمہاری قسم پر) میں تم سے ایک حدیث اسی سلسلے کی بیان کرتا ہوں، قبیلہ اشعر کے چند لوگوں کو ساتھ لے کر میں نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں (غزوۂ تبوک کے لیے) حاضر ہوا اور سواری کی درخواست کی۔ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اللہ کی قسم! میں تمہارے لیے سواری کا انتظام نہیں کر سکتا، کیونکہ میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو تمہاری سواری کے کام آ سکے“، پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں غنیمت کے کچھ اونٹ آئے، تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے ہمارے متعلق دریافت فرمایا، اور فرمایا:”قبیلہ اشعر کے لوگ کہاں ہیں؟“چنانچہ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے پانچ اونٹ ہمیں دیے جانے کا حکم صادر فرمایا، خوب موٹے تازے اور فربہ۔ جب ہم چلنے لگے تو ہم نے آپس میں کہا کہ جو نامناسب طریقہ ہم نے اختیار کیا اس سے آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمکے اس عطیہ میں ہمارے لیے کوئی برکت نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ ہم پھر آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہم نے پہلے جب آپ سے درخواست کی تھی تو آپ نے قسم کھا کر فرمایا تھا کہ میں تمہاری سواری کا انتظام نہیں کر سکوں گا۔ شاید آپصلی اللہ علیہ وسلمکو وہ قسم یاد نہ رہی ہو، لیکن آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”میں نے تمہاری سواری کا انتظام واقعی نہیں کیا، وہ اللہ تعالیٰ ہے جس نے تمہیں یہ سواریاں دے دی ہیں۔ اللہ کی قسم! تم اس پر یقین رکھو کہ«إِنْ شَاءَ اللّٰهُ»”ان شاء اللہ“جب بھی میں کوئی قسم کھاؤں، پھر مجھ پر یہ بات ظاہر ہو جائے کہ بہتر اور مناسب طرز عمل اس کے سوا میں ہے تو میں وہی کروں گا جس میں اچھائی ہو گی اور قسم کا کفارہ دے دوں گا۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأيمان/حدیث: 1070]
