Arabic (Original)
أنا أنامَعْمَرٌ، عَنْعَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنِالْحَسَنِ، عَنْقَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَعَلِيٍّرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَكَانَ إِذَا شَهِدَ مَشْهَدًا، أَوْ أَشْرَفَ عَلَى أَكَمَةٍ، أَوْ هَبَطَ وَادِيًا، قَالَ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، فَقُلْتُ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي يَشْكُرَ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ حَتَّى نَسْأَلَهُ عَنْ قَوْلِهِ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، فَانْطَلَقْنَا إِلَيْهِ، فَقُلْنَا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، رَأَيْنَاكَ إِذَا شَهِدْتَ مَشْهَدًا أَوْ أَشْرَفْتَ عَلَى أَكَمَةٍ، قُلْتَ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، فَهَلْ عَهِدَ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فِي ذَلِكَ؟ فَأَعْرَضَ عنَّا، وَأَلحَحْنَا عَلَيْهِ، فَقَالَ:" وَاللَّهِمَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلا شَيْئًا عَهِدَهُ إِلَى النَّاسِ، وَلَكِنَّ النَّاسَ وَثَبُوا عَلَى عُثْمَانَ فَقَتَلُوهُ، وَكَانَ غَيْرِي فِيهِ أَسْوَأُ حَالا وَأَسْوَأُ فِعْلا مِنِّي، ثُمَّ رَأَيْتُ أَنِّي أَحَقُّهُمْ بِهَا فَوَثَبْتُ عَلَيْهَا، فَاللَّهُ أَعْلَمُ أَخْطَأْنَا أَوْ أَصَبْنَا".
English Translation
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) said: "Do not say: 'O Allah, forgive me if You will; O Allah, have mercy on me if You will.' Be resolute, for Allah cannot be compelled."
Urdu Translation
قیس بن عباد نے کہا کہ ہم علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، وہ جب بھی کسی اجتماع گاہ میں حاضر ہوتے، یا کسی ٹیلے پر چڑھتے، یا کسی وادی میں اترتے تو اللہ اور اس کے رسولصلی اللہ علیہ وسلمکی تصدیق کرتے۔ میں نے بنو یشکر کے ایک آدمی سے کہا کہ ہمارے ساتھ امیر المومنین کی طرف چل۔ یہاں تک کہ ہم ان سے ان کے قول، اللہ اور اس کے رسولصلی اللہ علیہ وسلمنے سچ کہا کے متعلق سوال کریں، سو ہم ان کی طرف چلے اور کہا: اے امیر المومنین! ہم نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ جب بھی کسی اجتماع گاہ میں حاضر ہوتے ہیں یا کسی ٹیلے پر چڑھتے ہیں تو کہتے ہیں: اللہ اور اس کے رسولصلی اللہ علیہ وسلمنے سچ فرمایا، کیا اس بارے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے آپ سے کسی چیز کا عہد لیا ہے؟ تو انہوں نے اعراض کر لیا اور ہم نے ان پر اصرار کیا تو فرمایا: اللہ کی قسم! رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے مجھ سے کسی چیز کا عہد نہیں لیا، سوائے اس چیز کے جس کا آپصلی اللہ علیہ وسلمنے لوگوں سے عہد لیا، لیکن لوگ عثمان رضی اللہ عنہ پر کود پڑے اور انہیں شہید کر دیا اور میرے علاوہ اس (خلافت) کے بارے، میری نسبت زیادہ ابتر حالت اور برے کام والا تھا، میں نے سمجھا کہ بے شک میں ہی ان کی نسبت اس کا زیادہ حق دار ہوں، پس میں اس پر براجمان ہوگیا، اللہ زیادہ جانتا ہے کہ ہم نے خطا کھائی یا درستی کو پہنچے۔[مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 268]
