Arabic (Original)
عَنْيَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، أَنَّعُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ زَحْرٍحَدَّثَهُ، عَنْعَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِالْقَاسِمِ، عَنْأَبِي أُمَامَةَ، أَنَّعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِدَعَا بِقَمِيصٍ لَهُ جَدِيدٍ فَلَبِسَهُ، فَلا أَحْسَبُهُ بَلَغَ تَرَاقِيَهُ، حَتَّى قَالَ:الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي، وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَيَاتِي، ثُمَّ قَالَ: أَتَدْرُونَ لِمَ قُلْتُ هَذَا؟ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا بِثِيَابٍ لَهُ جُدُدٍ فَلَبِسَهَا فَلا أَحْسَبُهَا بَلَغَتْ تَرَاقِيَةُ حَتَّى قَالَ مِثْلَ مَا قُلْتُ، ثُمَّ قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَلْبَسُ ثَوْبًا جَدِيدًا، ثُمَّ يَقُولُ مِثْلَ مَا قُلْتُ، ثُمَّ يَعْمِدُ إِلَى سَمَلٍ مِنْ أَخْلاقِهِ الَّتِي وَضَعَ، فَيَكْسُوهُ إِنْسَانًا مِسْكِينًا فَقِيرًا مُسْلِمًا لا يَكْسُوهُ إِلا لِلَّهِ، إِلا كَانَ فِي حِرْزِ اللَّهِ، وَفِي ضَمَانِ اللَّهِ، وَفِي جِوَارِ اللَّهِ، مَا دَامَ عَلَيْهِ مِنْهَا سِلْكٌ وَاحِدٌ حَيًّا وَمَيِّتًا، حَيًّا وَمَيِّتًا، حَيًّا وَمَيِّتًا".
English Translation
Abu Umamah (may Allah be pleased with him) narrated that Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him) called for a new shirt and put it on. I do not think it had reached his collarbones before he said: "All praise is due to Allah who has clothed me with that by which I cover my body and adorn myself in my life." Then he said: "Do you know why I said this? I saw the Messenger of Allah (peace be upon him) call for new garments and put them on. I do not think they had reached his collarbones before he said what I said." Then he said: "By the One in Whose hand is my soul, no Muslim servant wears a new garment, then says what I said, then takes his old worn-out clothes that he has removed and clothes a poor, needy Muslim with them, clothing him only for the sake of Allah, except that he will be under Allah's protection, Allah's guarantee, and Allah's care, as long as a single thread of it remains upon him — whether alive or dead, alive or dead, alive or dead."
Urdu Translation
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنی نئی قمیص منگوائی اور زیب تن کی، میرا نہیں خیال کہ وہ ان کی ہنسلیوں تک پہنچی، یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سب تعریف اللہ کے لیے جس نے مجھے وہ (لباس) پہنایا جس کے ساتھ میں اپنی شرم گاہ ڈھانپتا ہوں اور جس کے ساتھ میں اپنی زندگی میں خوب صورتی اختیار کرتا ہوں، پھر کہا: کیا تم جانتے ہو کہ میں نے یہ کیوں کہا؟ میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو دیکھا۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اپنے نئے کپڑے منگوائے، انہیں زیب تن کیا، کہا کہ میں خیال کرتا ہوں کہ آپصلی اللہ علیہ وسلمکی ہنسلیوں تک پہنچ گئے، یہاں تک کہ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: اس کی مثل جو میں نے کہا، پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو مسلمان بندہ بھی نیا لباس پہنتا ہے پھر اسی کی مثل کہتا ہے جو میں نے کہا، پھر وہ اپنے ان پرانے اور بوسیدہ کپڑوں کی طرف قصد کرتا ہے جنہیں اتار دیا گیا ہے اور کسی مسلمان، فقیر، مسکین انسان کو پہنا دیتا ہے، وہ اسے صرف اللہ کے لیے پہناتا ہے تو لازماً وہ اللہ کی پناہ، ضمانت اور پڑوس میں ہوتا ہے، جب تک کہ اس کے اوپر اس کا ایک دھاگا بھی ہوتا ہے، خواہ وہ زندہ ہو یا مردہ، زندہ ہو یا مردہ، زندہ ہو یا مردہ۔“[مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 22]
