Arabic (Original)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ زَمْعَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ بْنِ زَمْعَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبِ بْنِ زَمْعَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ فِي تِجَارَةٍ إِلَى بُصْرَى قَبْلَ مَوْتِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِعَامٍ وَمَعَهُ نُعَيْمَانُ وَسُوَيْبِطُ بْنُ حَرْمَلَةَ وَكَانَا شَهِدَا بَدْرًا وَكَانَ نُعَيْمَانُ عَلَى الزَّادِ وَكَانَ سُوَيْبِطٌ رَجُلاً مَزَّاحًا فَقَالَ لِنُعَيْمَانَ أَطْعِمْنِي . قَالَ حَتَّى يَجِيءَ أَبُو بَكْرٍ . قَالَ فَلأُغِيظَنَّكَ . قَالَ فَمَرُّوا بِقَوْمٍ فَقَالَ لَهُمْ سُوَيْبِطٌ تَشْتَرُونَ مِنِّي عَبْدًا لِي قَالُوا نَعَمْ . قَالَ إِنَّهُ عَبْدٌ لَهُ كَلاَمٌ وَهُوَ قَائِلٌ لَكُمْ إِنِّي حُرٌّ . فَإِنْ كُنْتُمْ إِذَا قَالَ لَكُمْ هَذِهِ الْمَقَالَةَ تَرَكْتُمُوهُ فَلاَ تُفْسِدُوا عَلَىَّ عَبْدِي . قَالُوا لاَ بَلْ نَشْتَرِيهِ مِنْكَ . فَاشْتَرَوْهُ مِنْهُ بِعَشْرِ قَلاَئِصَ ثُمَّ أَتَوْهُ فَوَضَعُوا فِي عُنُقِهِ عِمَامَةً أَوْ حَبْلاً . فَقَالَ نُعَيْمَانُ إِنَّ هَذَا يَسْتَهْزِئُ بِكُمْ وَإِنِّي حُرٌّ لَسْتُ بِعَبْدٍ . فَقَالُوا قَدْ أَخْبَرَنَا خَبَرَكَ . فَانْطَلَقُوا بِهِ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَأَخْبَرُوهُ بِذَلِكَ . قَالَ فَاتَّبَعَ الْقَوْمَ وَرَدَّ عَلَيْهِمُ الْقَلاَئِصَ وَأَخَذَ نُعَيْمَانَ . قَالَ فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَأَخْبَرُوهُ . قَالَ فَضَحِكَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَأَصْحَابُهُ مِنْهُ حَوْلاً .
English Translation
It is narrated that Hadrat Umm Salamah (may Allah be well pleased with her) said: "Hadrat Abu Bakr went out to trade in Busra, one year before the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) departed this world, and with him were Nu`aiman and Suwaibit the sons of Harmalah, who had been present at Badr. Nu`aiman was in charge of the provisions, and Suwaibit was a man who joked a lot. He said to Nu`aiman: 'Feed me'. He said: 'Not until Hadrat Abu Bakr comes'. He said: 'Then I will have to annoy you'. Then they passed by some people, and Suwaibit said to them: 'Will you buy a slave from me?' They said: 'Yes'. He said 'He is a slave who talks a lot and he will tell you, "I am a free man". If you are going to let him go when he says that to you, do not bother buying him.' They said: 'We will buy him from you.' So they bought him from him in return for ten young she-camels, then they brought him and tied a turban or a rope around his neck. Nu`aiman said: 'This man is making fun of you. I am a free man, not a slave.' They said: 'He has already told us about you; and they took him off.' Then Hadrat Abu Bakr came and he (Suwaibit) told him about that. So he followed those people and returned their camels to them, and took Nu`aiman back. When they came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) they told him what had happened, and the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and his companions laughed about it for a year
Urdu Translation
حضرت اُمّ المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا وصال سے ایک سال پہلے بصریٰ تجارت کے لیے گئے، ان کے ساتھ نعیمان اور سویبط بن حرملہ ( رضی اللہ تعالیٰ عنہما ) بھی تھے، یہ دونوں بدری صحابی ہیں، نعیمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھانے پینے کی چیزوں پر متعین تھے، سویبط رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک پر مذاق آدمی تھے، انہوں نے نعیمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا: مجھے کھانا کھلاؤ، نعیمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آنے دیجئیے، سویبط رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: میں تمہیں غصہ دلا کر پریشان کروں گا، پھر وہ لوگ ایک قوم کے پاس سے گزرے تو سویبط رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس قوم کے لوگوں سے کہا: تم مجھ سے میرے ایک غلام کو خریدو گے؟ انہوں نے کہا: ہاں، سویبط رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے لگے: وہ ایک باتونی غلام ہے وہ یہی کہتا رہے گا کہ میں آزاد ہوں، تم اس کی باتوں میں آ کر اسے چھوڑ نہ دینا، ورنہ میرا غلام خراب ہو جائے گا، انہوں نے جواب دیا: وہ غلام ہم تم سے خرید لیں گے، الغرض ان لوگوں نے دس اونٹنیوں کے عوض وہ غلام خرید لیا، پھر وہ لوگ نعیمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے، اور ان کی گردن میں عمامہ باندھا یا رسی ڈالی تو نعیمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اس نے ( یعنی سویبط نے ) تم سے مذاق کیا ہے، میں تو آزاد ہوں، غلام نہیں ہوں، لوگوں نے کہا: یہ تمہاری عادت ہے، وہ پہلے ہی بتا چکا ہے ( کہ تم باتونی ہو ) ، الغرض وہ انہیں پکڑ کر لے گئے، اتنے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے، تو لوگوں نے انہیں اس واقعے کی اطلاع دی، وہ اس قوم کے پاس گئے اور ان کے اونٹ دے کر نعیمان کو چھڑا لائے، پھر جب یہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ( مدینہ ) آئے تو آپ اور آپ کے صحابہ سال بھر اس واقعے پر ہنستے رہے۔
