Arabic (Original)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَمَّيْهِ، يَعْلَى وَسَلَمَةَ ابْنَىْ أُمَيَّةَ قَالاَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَمَعَنَا صَاحِبٌ لَنَا فَاقْتَتَلَ هُوَ وَرَجُلٌ آخَرُ وَنَحْنُ بِالطَّرِيقِ . قَالَ فَعَضَّ الرَّجُلُ يَدَ صَاحِبِهِ فَجَذَبَ صَاحِبُهُ يَدَهُ مِنْ فِيهِ فَطَرَحَ ثَنِيَّتَهُ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَلْتَمِسُ عَقْلَ ثَنِيَّتِهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ إِلَى أَخِيهِ فَيَعَضُّهُ كَعِضَاضِ الْفَحْلِ ثُمَّ يَأْتِي يَلْتَمِسُ الْعَقْلَ لاَ عَقْلَ لَهَا " . قَالَ فَأَبْطَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
English Translation
It is narrated from Hadrat Ya'la and Salamah the sons of Ummayah (may Allah be well pleased with him) said:“We went out with the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) on the military expedition of Tabuk, and with us was a friend of ours. He fought with another man while we were on the road. The man bit the hand on his opponent, who pulled away his hand and the man's tooth fell out. He came to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) demanding compensatory money for his tooth, and the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Would anyone of you go and bite his brother like a stallion, then come demanding compensatory money? There is no compensatory for this.'” Hence, The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) invalidated it (i.e compensatory in such case)
Urdu Translation
حضرت یعلیٰ بن امیہ اور سلمہ بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ غزوہ تبوک میں نکلے، ہمارے ساتھ ہمارا ایک ساتھی تھا، وہ اور ایک دوسرا شخص دونوں آپس میں لڑ پڑے، جب کہ ہم لوگ راستے میں تھے، ان میں سے ایک نے دوسرے کا ہاتھ کاٹ لیا اور جب اس نے اپنا ہاتھ اس کے منہ سے کھینچا تو اس کے سامنے کے دانت گر گئے، وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اپنے دانت کی دیت مانگنے لگا، آپ صلیاللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ( عجیب ماجرا ہے ) تم میں سے کوئی ایک اپنے ساتھی کے ہاتھ کو اونٹ کی طرح چبانا چاہتا ہے اور پھر دیت مانگتا ہے، اس کی کوئی دیت نہیں، پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو باطل قرار دیا ۱؎۔
