Arabic (Original)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَعَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ دَهْثَمِ بْنِ قُرَّانٍ، عَنْ نِمْرَانَ بْنِ جَارِيَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ قَوْمًا، اخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي خُصٍّ كَانَ بَيْنَهُمْ فَبَعَثَ حُذَيْفَةَ يَقْضِي بَيْنَهُمْ فَقَضَى لِلَّذِينَ يَلِيهِمُ الْقِمْطُ فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَهُ فَقَالَ " أَصَبْتَ وَأَحْسَنْتَ " .
English Translation
It was narrated from Nimran bin Jariyah, from his father, that :some people referred a dispute to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) about a hut, so that he could judge between them. He sent Hadrat Hudhaifah to judge between them, and he ruled in favor of those who had the rope (with which the hut was blinded together). When he went back to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) he told him (what he had done) and he said: “You did the right thing, and you did well.”
Urdu Translation
حضرت جاریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگ ایک جھونپڑی کے متعلق جو ان کے بیچ میں تھی جھگڑا لے کر نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے، تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے بھیجا، انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ جھونپڑی ان کی ہے جن سے رسی قریب ہے، پھر جب وہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس آئے، اور انہیں بتایا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم نے ٹھیک اور اچھا فیصلہ کیا ۔
