Arabic (Original)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي غَزْوَةٍ فَقَالَ لِي " أَتَبِيعُ نَاضِحَكَ هَذَا بِدِينَارٍ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هُوَ نَاضِحُكُمْ إِذَا أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ . قَالَ " فَتَبِيعُهُ بِدِينَارَيْنِ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ " . قَالَ فَمَا زَالَ يَزِيدُنِي دِينَارًا دِينَارًا وَيَقُولُ مَكَانَ كُلِّ دِينَارٍ " وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ " . حَتَّى بَلَغَ عِشْرِينَ دِينَارًا فَلَمَّا أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ أَخَذْتُ بِرَأْسِ النَّاضِحِ فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ " يَا بِلاَلُ أَعْطِهِ مِنَ الْعَيْبَةِ عِشْرِينَ دِينَارًا " . وَقَالَ " انْطَلِقْ بِنَاضِحِكَ وَاذْهَبْ بِهِ إِلَى أَهْلِكَ " .
English Translation
It is narrated that Hadrat Jabir bin Hadrat 'Abdullah (may Allah be well pleased with him) said: "I was with the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) on a military campaign, and he said to me: 'Will you sell this camel of yours for a Dinar?' I submitted: 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), it is yours when I get to Al-Madinah.' He said: 'Then sell it for two Dinar, may Allah forgive you.' And he kept increasing the price for me, saying: 'May Allah forgive you,' each time, until the amount reached twenty Dinar. When I came to Al-Madinah, I took hold of the camel's head and brought it to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and he said: 'O Hadrat Bilal, give him twenty Dinar from the spoils of war.' And he said: 'Take your camel away and go to your people with it
Urdu Translation
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں تھا آپ نے مجھ سے فرمایا: کیا تم اپنے اس پانی ڈھونے والے اونٹ کو ایک دینار میں بیچتے ہو؟ اور اللہ تمہیں بخشے میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب میں مدینہ پہنچ جاؤں، تو آپ ہی کا ہے، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اچھا دو دینار میں بیچتے ہو؟ اللہ تعالیٰ تمہیں بخشے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر آپ اسی طرح ایک ایک دینار بڑھاتے گئے اور ہر دینار پر فرماتے رہے: اللہ تعالیٰ تمہیں بخشے! یہاں تک کہ بیس دینار تک پہنچ گئے، پھر جب میں مدینہ آیا تو اونٹ پکڑے ہوئے اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حضرت بلال! انہیں مال غنیمت میں سے بیس دینار دے دو اور مجھ سے فرمایا: اپنا اونٹ بھی لے جاؤ، اور اسے اپنے گھر والوں میں پہنچا دو ۱؎۔
