Arabic (Original)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَضَى فِي بَرِيرَةَ ثَلاَثُ سُنَنٍ خُيِّرَتْ حِينَ أُعْتِقَتْ وَكَانَ زَوْجُهَا مَمْلُوكًا وَكَانُوا يَتَصَدَّقُونَ عَلَيْهَا فَتُهْدِي إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَيَقُولُ " هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ " . وَقَالَ " الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " .
English Translation
It is narrated that Hadrat Aishah (may Allah be well pleased with her) said:'Three Sunan were established because of Barirah: She was given the choice (of whether to remain married) when she was freed, and her husband was a slave; they used to give her charity and she used to give it as a gift to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), and he would say: 'It is charity for her and a gift for us,' and he said, the 'Wala' is for the one who set the slave free
Urdu Translation
حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ بریرہ میں تین سنتیں سامنے آئیں ایک تو یہ کہ جب وہ آزاد ہوئیں تو انہیں اختیار دیا گیا، اور ان کے شوہر غلام تھے، دوسرے یہ کہ لوگ بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو صدقہ دیا کرتے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو ہدیہ کر دیتیں، تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: وہ اس کے لیے صدقہ ہے، اور ہمارے لیے ہدیہ ہے ، تیسرے یہ کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں کے سلسلہ میں فرمایا: حق ولاء ( غلام یا لونڈی کی میراث ) اس کا ہے جو آزاد کرے ۱؎۔
