Arabic (Original)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَامَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ خَطِيبًا - أَوْ خَطَبَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ - فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ تَأْكُلُونَ شَجَرَتَيْنِ لاَ أُرَاهُمَا إِلاَّ خَبِيثَتَيْنِ هَذَا الثُّومُ وَهَذَا الْبَصَلُ وَلَقَدْ كُنْتُ أَرَى الرَّجُلَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُوجَدُ رِيحُهُ مِنْهُ فَيُؤْخَذُ بِيَدِهِ حَتَّى يُخْرَجَ إِلَى الْبَقِيعِ فَمَنْ كَانَ آكِلَهَا لاَ بُدَّ فَلْيُمِتْهَا طَبْخًا .
English Translation
It was narrated from Ma’dan bin Abu Hadrat Talhah Al-Ya’muri that ‘Umar bin Khattab stood up one Friday to deliver a sermon, or, he delivered a sermon one Friday. He praised Allah, then he said:“O people, you eat two plants that I find are nothing but obnoxious; this garlic and this onion. At the time of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), if a foul odour was detected from a man, I would see him seized by the arm and taken out to Al-Baqi’. Whoever must eat them, let him cook them to death.”
Urdu Translation
معدان بن ابی حضرت طلحہ یعمری سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جمعہ کے دن خطیب کی حیثیت سے کھڑے ہوئے یا خطبہ دیا، تو انہوں نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر کہا: لوگو! تم دو درختوں کے پھل کھاتے ہو، اور میں انہیں خبیث ۱؎ اور گندہ سمجھتا ہوں، وہ پیاز اور لہسن ہیں، میں دیکھتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں جس شخص کے منہ سے اس کی بو آتی تھی اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے بقیع کی طرف نکال دیا جاتا تھا، لہٰذا جو کوئی اسے کھانا ہی چاہے تو اس کو پکا کر اس کی بو زائل کر لے ۱؎۔
