Arabic (Original)
حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثناعَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أنامَعْمَرٌ، عَنْقَتَادَةَ، عَنْأَنَسٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ نَفَرًا مِنْ عُكْلٍ وَعُرَيْنَةَ تَكَلَّمُوا بِالإِسْلامِ، فَأَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ أَهْلُ ضَرْعٍ وَلَمْ يَكُونُوا أَهْلَ رِيفٍ، وَشَكُوا حُمَّى الْمَدِينَةِ، فَأَمَرَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ، وَأَمَرَ لَهُمْ بِرَاعٍ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا، فَانْطَلَقُوا بِنَاحِيَةِ الْحَرَّةِ، فَكَفَرُوا بَعْدَ إِسْلامِهِمْ، وَقَتَلُوا رَاعِيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَاقُوا الذَّوْدَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ الطَّلَبَ فِي آثَارِهِمْ، فَأَتَى بِهِمْفَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ وَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، وَتُرِكُوا بِنَاحِيَةِ الْحَرَّةِ يَقْضِمُونَ حِجَارَتَهَا حَتَّى مَاتُوا" قَالَ قَتَادَةُ: فَبَلَغَنَا أَنَّ هَذِهِ الآيَةَ أنزلت فِيهِمْ: إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ سورة المائدة آية 33.
English Translation
Narrated by Anas: A group from the tribes of Ukl and Uraynah professed Islam and came to the Prophet (peace be upon him), informing him that they were herders, not farmers, and complained about the fever of Madinah. The Prophet (peace be upon him) ordered camels to be given to them with a shepherd, and told them to go out and drink from their milk and urine. They went to the direction of al-Harrah, then apostatized after their Islam, killed the Prophet's shepherd, and drove away the camels. When this news reached the Prophet (peace be upon him), he sent men in pursuit. They were brought back, and he had their eyes branded with heated nails, their hands and feet cut off, and they were left at al-Harrah biting the stones until they died. Qatadah said: We were told that this verse was revealed concerning them: 'Indeed, the penalty for those who wage war against Allah and His Messenger...' (Al-Ma'idah: 33).
Urdu Translation
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عکل اور عرینہ قبیلے کے کچھ لوگوں نے اسلام قبول کیا، وہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس آئے اور آپ کو بتایا کہ وہ زمیندار نہیں، بلکہ چرواہے ہیں، نیز انہوں نے مدینہ کے بخار کی شکایت کی، نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے ان کے لیے اونٹوں اور چرواہوں کا (بندوبست کرنے کا حکم دیا اور انہیں حکم دیا کہ وہ (مدینہ سے) باہر چلے جائیں، ان کا دودھ اور پیشاب پیئیں، وہ حرہ (پتھریلا میدان) کے ایک کونے میں چلے گئے اور اسلام لانے کے بعد کافر (مرتد) ہو گئے، انہوں نے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے چرواہے کو قتل کیا اور اونٹ ہانک کر لے گئے، نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکو یہ خبر پہنچی تو آپ نے ان کے پیچھے لوگوں کو تلاش کرنے کے لیے بھیجا، انہیں لایا گیا، تو آپ نے ان کی آنکھوں میں سلائی گرم کر کے ڈالی اور ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے، پھر انہیں حرہ کے کنارے میں پھینک دیا گیا وہ پتھر چباتے چباتے مر گئے۔ قتادہ کہتے ہیں: ہمیں خبر ملی ہے کہ آیت﴿إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ﴾(المائدة: 33) انہی کے متعلق نازل ہوئی ہے۔[المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 846]
