Arabic (Original)
حَدَّثَنَاالْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، قَالَ: ثناحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَابْنُ جُرَيْجٍ: أَنِيأَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَيْمَنَمَوْلَى عَزَّةَ، يَسْأَلُابْنَ عُمَرَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَأَبُو الزُّبَيْرِ يَسْمَعُ، فَقَالَ: كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ حَائِضًا؟ فَقَالَ: طَلَّقَ عَبْدُ اللَّهِ امْرَأَتَهُ حَائِضًا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِيُرْجِعْهَا، فَرَدَّهَا عَلَيَّ، وَقَالَ: إِذَا طَهُرَتْ فَلْيُطَلِّقْ أَوْ يُمْسِكْ" قَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: وَقَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ سورة الطلاق آية 1 مِنْ قَبْلِ عِدَّتِهِنَّ.
English Translation
Abu al-Zubayr narrated that he heard Abd al-Rahman ibn Ayman, the freed slave of Azzah, asking Ibn Umar (may Allah be pleased with them both) — while Abu al-Zubayr was listening — saying: What do you say about a man who divorces his wife while she is menstruating? He said: Abdullah ibn Umar divorced his wife while she was menstruating during the time of the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him). Umar (may Allah be pleased with him) asked the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) about it, saying: Abdullah ibn Umar has divorced his wife while she is menstruating. The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: "Let him take her back." So he returned her to me, and said: "When she becomes pure, let him divorce her or keep her." Ibn Umar (may Allah be pleased with them both) said: And the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) recited: "O Prophet, when you divorce women, divorce them at the commencement of their prescribed waiting period" [al-Talaq 65:1].
Urdu Translation
ابو زبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عروہ کے آزاد کردہ غلام عبدالرحمن بن ایمن سے سنا، جب کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھ رہے تھے اور ابو زبیر رحمہ اللہ سن رہے تھے۔ انہوں نے پوچھا: اس شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دے؟ انہوں (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) نے کہا: عبداللہ بن عمر نے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے دور میں اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمسے دریافت کیا کہ عبداللہ بن عمر نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی ہے۔ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: وہ ان سے رجوع کریں۔ آپ نے بیوی کو میرے پاس لوٹا دیا اور فرمایا: جب وہ پاک ہو جائے، تو طلاق دینا یا رکھ لینا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے یہ آیت تلاوت فرمائی:﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ﴾(اے نبی! جب آپ اپنی عورتوں کو طلاق دیں، تو انہیں عدت (طہر) کے آغاز میں ہی طلاق دیں)۔[المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 733]
