Arabic (Original)
حَدَّثَنَاعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْغَزِّيُّ، قَالَ: ثناسُفْيَانُ، عَنْسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْسُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ: وَجَدْتُ سَوْطًا فَأَخَذْتُهُ، فَعَابَ ذَلِكَ عَلَيَّ زَيْدُ بْنُ صُوحَانَ وَسَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ، فَقُلْتُ: إِنْ وَجَدْتُ صَاحِبَهُ دَفَعْتُ إِلَيْهِ وَإِلا اسْتَمْتَعْتُ بِهِ، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَلأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَحْسَنْتَ أَحْسَنْتَ، وَجَدْتُ صُرَّةً فَأَتَيْتُ بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" عَرِّفْهَا، فَعَرَّفْتُهَا سَنَةً، فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يَعْرِفُهَا، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: عَرِّفْهَا، فَعَرَّفْتُهَا سَنَةً، فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يَعْرِفُهَا، فَقَالَ: اعْلَمْ عِدَّتَهَا وَوِعَاءَهَا وَوِكَاءَهَا، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ وَإِلا فَاسْتَمْتِعْ بِهَا".
English Translation
Suwayd ibn Ghafalah narrated: I found a whip and took it. Zaid ibn Suhan and Salman ibn Rabi'ah disapproved of this. I said: If I find its owner, I will give it to him; otherwise, I will use it. I mentioned this to Ubayy ibn Ka'b (may Allah be pleased with him), and he said: You did well. I found a purse and brought it to the Prophet (peace be upon him). He said: "Announce it for one year. If its owner comes, give it to him; otherwise, remember its description and keep it."
Urdu Translation
سیدنا سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے ایک کوڑا ملا اور میں نے اسے اٹھا لیا، زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ نے مجھ پر اعتراض کیا، میں نے کہا:”اگر مجھے اس کا مالک مل گیا، تو میں اس کے حوالے کر دوں گا، ورنہ میں اس سے فائدہ اٹھاؤں گا۔“سوید کہتے ہیں: میں نے اس کا تذکرہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کیا، تو انہوں نے فرمایا:”آپ نے ٹھیک کیا، ٹھیک کیا ہے، مجھے ایک تھیلی ملی تھی، میں اسے لے کر نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: ’ایک سال تک اس کا اعلان کریں۔‘ میں نے ایک سال تک اس کا اعلان کیا، مگر کوئی آدمی ایسا نہ ملا، جو اسے پہچان سکتا ہو۔ میں پھر نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: ’ایک سال تک اور اعلان کریں۔‘ میں نے ایک سال تک اس کا اعلان کیا، مگر کوئی آدمی ایسانہ ملا، جو اسے پہچان سکتا ہو۔ میں پھر نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: ’ایک سال تک مزید اعلان کریں۔‘ میں نے ایک سال تک اس کا اعلان کیا، مگر کوئی آدمی ایسانہ ملا، جو اسے پہچان سکتا ہو۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: ’اس کی تعداد، تھیلی اور بندھن کو ذہن نشین کر لیں، اگر اس کا مالک آجائے تو اسے دے دینا، ورنہ اسے اپنی ضروریات میں خرچ کر لینا۔‘“[المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 668]
