Arabic (Original)
حَدَّثَنَاأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: ثَنَاعَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنَاابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ" سَمِعْتُنَافِعًايَزْعُمُ، أَنَّابْنَ عُمَرَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَاصَلَّى عَلَى تِسْعِ جَنَائِزَ جَمِيعًا، جَعَلَ الرِّجَالَ يَلُونَ الإِمَامَ، وَالنِّسَاءَ يَلُونَ الْقِبْلَةَ، فَصَفَّهُمْ صَفًّا، وَوُضِعَتْ جَنَازَةُ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ امْرَأَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَابْنٍ لَهَا يُقَالُ لَهُ زَيْدٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَصَفَّا جَمِيعًا، وَالإِمَامُ يَوْمَئِذٍ سَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ، وَفِي النَّاسِ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ، وَأَبُو سَعِيدٍ، وَأَبُو قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، فَوُضِعَ الْغُلامُ مِمَّا يَلِي الإِمَامَ، فَقَالَ رَجُلٌ: فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ، فَنَظَرْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ فَقَالُوا: هِيَ السُّنَّةُ".
English Translation
Nafi' narrated that Ibn Umar (may Allah be pleased with them both) prayed over nine funerals together, placing the men closer to the imam and the women closer to the qiblah, arranging them in one row. The funeral of Umm Kulthum bint Ali ibn Abi Talib, the wife of Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with them), and her son Zaid (may Allah be pleased with him) were placed together. The imam that day was Sa'id ibn al-As (may Allah be pleased with him), and among the people were Ibn Abbas, Abu Hurairah, Abu Sa'id, and Abu Qatadah (may Allah be pleased with them all).
Urdu Translation
نافع کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نو(9)جنازوں کی نماز جنازہ اکٹھی ادا کی، مردوں کو امام کی طرف اور عورتوں کو قبلہ کی طرف رکھا، لوگوں کی صفیں بنوائیں۔ (اسی طرح) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی بیوی اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی بیٹی، سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا اور ان کے بیٹے زید رضی اللہ عنہ کا جنازہ رکھا گیا اور دونوں پر اکٹھی صفیں بنائی گئیں، اس دن امامت کے فرائض سیدنا سعید بن عاص رضی اللہ عنہ نے سرانجام دیے، (جنازہ پڑھنے والے) لوگوں میں سیدنا عبداللہ بن عباس، سیدنا ابو ہریرہ، سیدنا ابو سعید، اور سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہم بھی شامل تھے۔ بچے کو امام کی جانب رکھا گیا۔ ایک آدمی (عمار مولی حارث) کہتا ہے: میں نے اسے غلط قرار دیتے ہوئے عبداللہ بن عباس، ابو ہریرہ، ابو سعید اور ابو قتادہ رضی اللہ عنہم کی طرف دیکھ کر کہا:”یہ کیا ہے؟“تو انہوں نے فرمایا:”یہ سنت ہے۔“[المنتقى ابن الجارود/كتاب الجنائز/حدیث: 545]
