Arabic (Original)
حَدَّثَنَاأَبُو عَبْدِ اللَّهِ حَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَنْبَسَةَ الْوَرَّاقُ،قَالَ: ثَنَارَوْحٌ، قَالَ: ثَنَامَالِكٌ، عَنْنَافِعٍ، أَنَّابْنَ عُمَرَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، كَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْ صَلاةِ الْخَوْفِ، قَالَ:" يَتَقَدَّمُ الإِمَامُ وَطَائِفَةٌ مِنَ النَّاسِ فَيُصَلِّي بِهِمُ الإِمَامُ رَكْعَةً وَيَكُونُ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْعَدُوِّ لَمْ يُصَلُّوا، فَإِذَا صَلَّى الَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَةً اسْتَأْخَرُوا مَكَانَ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا وَلا يُسَلِّمُوا، وَيَتَقَدَّمُ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا فَيُصَلُّوا مَعَهُ رَكْعَةً ثُمَّ يَنْصَرِفُ الإِمَامُ وَقَدْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَيَقُومُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ فَيُصَلُّونَ لأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً بَعْدَ أَنْ يَنْصَرِفَ الإِمَامُ، فَيَكُونُ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ قَدْ صَلَّوْا رَكْعَتَيْنِ، وَإِنْ كَانَ خَوْفًا أَشَدَّ مِنْ ذَلِكَ صَلُّوا رِجَالا قِيَامًا عَلَى أَقْدَامِهِمْ أَوْ رُكْبَانًا مُسْتَقْبِلِي الْقِبْلَةَ وَغَيْرَ مُسْتَقْبِلِيهَا"، قَالَ مَالِكٌ: قَالَ نَافِعٌ: مَا أَرَى ابْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ إِلا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
English Translation
Narrated Ibn Umar (may Allah be pleased with them both): Whenever he was asked about the Fear Prayer, he would say: "The Imam advances with a group of people and leads them in one rak'ah, while another group that has not prayed stands between him and the enemy. When those with him complete one rak'ah, they withdraw to the position of those who have not prayed, without giving the Salam. Then those who have not yet prayed come forward and pray one rak'ah with the Imam. Then the Imam, having completed two rak'ahs, gives the Salam. Each of the two groups then stands and completes one rak'ah on their own after the Imam departs, so each group will have prayed two rak'ahs. If the fear is even more intense, they may pray standing on their feet or riding, facing the Qiblah or otherwise." Malik said: Nafi' said: "I believe that Ibn Umar related this only from the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him)."
Urdu Translation
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے جب نماز خوف کے متعلق پوچھا جاتا، تو فرماتے: لوگوں کا ایک گروہ امام کے ساتھ آگے بڑھے اور امام انہیں ایک رکعت نماز پڑھا دے، جب کہ دوسرا گروہ نماز نہ پڑھے، بل کہ ان کے اور دشمن کے درمیان کھڑا رہے، جب وہ لوگ ایک رکعت پڑھ لیں، جو امام کے ساتھ تھے، تو وہ ان لوگوں کی جگہ چلے جائیں جنہوں نے نماز نہیں پڑھی، سلام نہ پھیریں اور جن لوگوں نے نماز نہیں پڑھی، وہ آگے بڑھ کر امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھ لیں، پھر امام جو کہ دو رکعتیں پڑھ چکا ہے، سلام پھیر دے، دونوں گروہ کھڑے ہو کر خود ہی ایک ایک رکعت ادا کر لیں، یوں دونوں گروہوں کی دو دو رکعتیں ادا ہو جائیں گی، اگر خوف بہت زیادہ ہو جائے، تو کھڑے کھڑے نماز پڑھ لیں یا سوار ہو کر پڑھ لیں، نیز منہ قبلہ کی جانب ہو یا کسی اور جانب۔ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ طریقہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے ہی بیان کیا ہے۔[المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 234]
