Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ أَنَّ خَبَّابًا قَالَ رَمَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فِي صَلَاةٍ صَلَّاهَا حَتَّى كَانَ مَعَ الْفَجْرِ فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مِنْ صَلَاتِهِ جَاءَهُ خَبَّابٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي لَقَدْ صَلَّيْتَ اللَّيْلَةَ صَلَاةً مَا رَأَيْتُكَ صَلَّيْتَ نَحْوَهَا قَالَ «أَجَلْ إِنَّهَا صَلَاةُ رَغَبٍ وَرَهَبٍ سَأَلْتُ رَبِّي فِيهَا ثَلَاثَ خِصَالٍ فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُهْلِكَنَا بِمَا أَهْلَكَ بِهِ الْأُمَمَ قَبْلَهَا فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُظْهِرَ عَلَيْنَا عَدُوًّا مِنْ غَيْرِنَا فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَلْبِسَنَا شِيَعًا فَمَنَعَنِيهَا»
English Translation
Hadrat Khabbab (may Allah be well pleased with him) narrated: I watched the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) in a prayer he performed until near dawn. When the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) gave the salutation, Khabbab came and said: "O Messenger of Allah, may my parents be sacrificed for you, tonight you prayed a prayer the like of which I have never seen you pray." He stated: "Indeed, it was a prayer of hope and fear. I asked my Lord for three things in it, and He gave me two and denied me one. I asked Him not to destroy us by what He destroyed the nations before us, and He granted it. I asked Him not to let an external enemy overpower us, and He granted it. And I asked Him not to divide us into factions, and He denied it."
Urdu Translation
حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو ایک نماز میں دیکھا جو آپ نے فجر کے قریب تک پڑھی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا تو خباب آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا، آج رات آپ نے ایسی نماز پڑھی جو میں نے آپ کو کبھی اس طرح پڑھتے نہیں دیکھا۔ فرمایا: «ہاں، یہ امید اور خوف کی نماز تھی۔ میں نے اس میں اپنے رب سے تین باتیں مانگیں، اس نے دو عطا فرمائیں اور ایک سے منع فرمایا۔ میں نے مانگا کہ ہمیں اس چیز سے ہلاک نہ کرے جس سے پہلی امتوں کو ہلاک کیا، یہ عطا فرمایا۔ میں نے مانگا کہ ہم پر باہر کا دشمن غالب نہ کرے، یہ عطا فرمایا۔ اور میں نے مانگا کہ ہمیں فرقوں میں نہ بانٹے، یہ منع فرمایا۔»
