Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ قَالَ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ «مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالًا لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ» وَنَزَلَ تَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ} الْآيَةَ فَمَرَّ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ وَهُمْ يَتَحَدَّثُونَ بِهَذَا الْحَدِيثِ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ مَا يَقُولُ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ؟ فَأَخْبَرُوهُ فَقَالَ صَدَقَ إِنَّمَا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِيَّ وَفِي صَاحِبِي فِي بِئْرٍ ادَّعَيْتُهَا وَلَمْ يَكُنْ لِأَحَدٍ مِنَّا بَيِّنَةٌ فَحَلَفَ عَلَيْهَا فَذَكَرَ نَبِيُّ اللَّهِ ﷺ هَذَا عِنْدَ ذَلِكَ
English Translation
Hadrat Ibn Mas'ud (may Allah be well pleased with him) narrated that the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "Whoever swears an oath while being sinful in it, seeking to unlawfully take someone's property, he will meet Allah while He is angry with him." The confirmation of this was revealed in the Book of Allah: {Indeed, those who exchange the covenant of Allah and their oaths for a small price} [3:77]. Al-Ash'ath ibn Qais passed by while they were narrating this hadith in the mosque and said: "What is Ibn Umm Abd saying?" They told him. He said: "He spoke the truth. This verse was revealed about me and my companion regarding a well that I claimed. Neither of us had evidence, so he swore about it, and the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) mentioned this at that time."
Urdu Translation
حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «جس نے کسی قسم پر جھوٹی قسم کھائی تاکہ اس سے کسی کا مال ناحق لے لے، وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر ناراض ہوگا۔» اور اس کی تصدیق اللہ کی کتاب میں نازل ہوئی: {بے شک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں}۔ اشعث بن قیس ان کے پاس سے گزرے جب وہ مسجد میں یہ حدیث بیان کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا: «ابن ام عبد کیا کہہ رہے ہیں؟» انہیں بتایا گیا تو کہا: «سچ کہا، یہ آیت میرے اور میرے ساتھی کے بارے میں ایک کنویں کے معاملے میں نازل ہوئی جس کا میں نے دعوی کیا تھا۔ ہم میں سے کسی کے پاس گواہی نہ تھی تو اس نے قسم کھا لی اور نبی اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس موقع پر یہ فرمایا۔»
