Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ يَوْمَ حُنَيْنٍ «مَنْ قَتَلَ كَافِرًا فَلَهُ سَلَبُهُ» فَقَتَلَ أَبُو طَلْحَةَ يَوْمَئِذٍ عِشْرِينَ رَجُلًا وَأَخَذَ أَسْلَابَهُمْ قَالَ أَبُو قَتَادَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ضَرَبْتُ رَجُلًا عَلَى حَبْلِ الْعَاتِقِ وَعَلَيْهِ دِرْعٌ فَأُجْهِضْتُ عَنْهُ فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا أَخَذْتُهَا فَأَرْضِهِ مِنْهَا وَأَعْطِنِيهَا وَكَانَ النَّبِيُّ ﷺ لَا يُسْأَلُ شَيْئًا أَلَا أَعْطَاهُ أَوْ سَكَتَ فَسَكَتَ ﷺ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَاللَّهِ لَا يُفِيئُهَا اللَّهُ عَلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِهِ وَيُعْطِيكَهَا فَضَحِكَ النَّبِيُّ ﷺ وَقَالَ «صَدَقَ عُمَرُ»
English Translation
Hadrat Anas ibn Malik (may Allah be well pleased with him) narrated that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated on the Day of Hunayn: «Whoever kills a disbeliever shall have his spoils.» So Hadrat Abu Talhah killed twenty men that day and took their spoils. Hadrat Abu Qatadah said: 'O Messenger of Allah, I struck a man on his shoulder blade while he was wearing armor, but I was prevented from taking it.' A man said: 'I took it, so compensate him from it and give it to me.' Now the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) would not be asked for anything except that he would either give it or remain silent, so he remained silent (blessings and peace of Allah be upon him). Then Hadrat Umar ibn al-Khattab (may Allah's pleasure be upon him) said: 'By Allah, Allah will not bestow it upon one of His lions and then give it to you!' So the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) smiled and stated: «Umar has spoken the truth.»
Urdu Translation
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حنین کے دن ارشاد فرمایا: «جس نے کافر کو قتل کیا اس کے لیے اس کا سامان ہے۔» تو حضرت ابوطلحہ نے اس دن بیس آدمی قتل کیے اور ان کا سامان لے لیا۔ حضرت ابوقتادہ نے کہا: 'یا رسول اللہ! میں نے ایک شخص کو کندھے پر مارا اور اس پر زرہ تھی لیکن مجھے جلدی کی وجہ سے وہ لینے سے روک دیا گیا۔' ایک آدمی نے کہا: 'میں نے اسے لے لیا ہے، انہیں اس میں سے راضی کر دیں اور وہ مجھے دے دیں۔' اور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم جب کسی چیز کا سوال کیا جاتا تو یا تو دے دیتے یا خاموش رہتے، تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے۔ پھر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: 'اللہ کی قسم! اللہ اسے اپنے شیر پر نہیں دے گا اور تمہیں دے دے گا!' تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مسکرائے اور ارشاد فرمایا: «عمر نے سچ کہا ہے۔»
