Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْن�� وَهْبٍ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي نَبْهَانُ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ كَاتَبَتْهُ فَبَقِيَ مِنْ كِتَابَتِهِ أَلْفَا دِرْهَمٍ قَالَ نَبْهَانُ كُنْتُ أَمْسِكُهَا لِكَيْ لَا تَحْتَجِبَ عَنِّي أُمُّ سَلَمَةَ قَالَ فَحَجَجْتُ فَرَأَيْتُهَا بِالْبَيْدَاءِ فَقَالَتْ لِي مَنْ ذَا؟ فَقُلْتُ أَنَا أَبُو يَحْيَى فَقَالَتْ لِي أَيْ بُنَيَّ تَدْعُو إِلَيَّ ابْنَ أَخِي مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ وَتُعْطِي فِي نِكَاحِهِ الَّذِي لِي عَلَيْكَ وَأَنَا أَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ قَالَ فَبَكَيْتُ وَصِحْتُ وَقُلْتُ وَاللَّهِ لَا أَدْفَعُهَا إِلَيْهِ أَبَدًا فَقَالَتْ أَيْ بُنَيَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ «إِذَا كَانَ عِنْدَ مُكَاتَبِ إِحْدَاكُنَّ مَا يَقْضِي عَنْهُ فَاحْتَجِبِي فَوَاللَّهِ لَا تَرَانِي إِلَّا أَنْ تَرَانِي فِي الْآخِرَةِ»
English Translation
Nabhan, the freed slave of Umm al-Mu'minin Hadrat Umm Salamah (may Allah be well pleased with her), narrated that Umm Salamah entered into a contract of manumission (kitabah) with him, and two thousand dirhams remained of his contract. Nabhan said: I used to hold back (from paying) so that Umm Salamah would not veil from me. He said: I went for Hajj and saw her at al-Bayda'. She said to me: "Who is this?" I said: "I am Abu Yahya." She said to me: "O my son, call my nephew Muhammad ibn Abdullah ibn Abi Umayyah to me, and pay in his marriage contract what you owe me, and I greet you with peace." He said: I wept and cried out and said: "By Allah, I will never hand it over to him." She said: "O my son, the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'When your mukatab (contracted slave) has enough to pay off his contract, veil from him.' By Allah, you will never see me again unless you see me in the Hereafter."
Urdu Translation
نبہان، اُمّ المؤمنین حضرت اُمّ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے آزاد کردہ غلام، سے روایت ہے کہ اُمّ سلمہ نے ان سے مکاتبت کا معاہدہ کیا اور ان کی مکاتبت میں سے دو ہزار درہم باقی رہ گئے۔ نبہان نے کہا: میں جان بوجھ کر (ادائیگی) روکے رکھتا تاکہ اُمّ سلمہ مجھ سے پردہ نہ کریں۔ کہتے ہیں: میں حج کو گیا تو انہیں بیداء میں دیکھا۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا: کون ہے؟ میں نے کہا: میں ابویحییٰ ہوں۔ انہوں نے مجھ سے فرمایا: اے بیٹے! میرے بھتیجے محمد بن عبداللہ بن ابی امیہ کو میرے پاس بلاؤ اور اس کے نکاح میں جو میرا حق تم پر ہے وہ دے دو، اور میں تمہیں سلام کہتی ہوں۔ کہتے ہیں: میں رویا اور چیخا اور کہا: اللہ کی قسم! میں اسے ہرگز نہیں دوں گا۔ انہوں نے فرمایا: اے بیٹے! رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کسی کے مکاتب کے پاس اس کی مکاتبت چکانے کے لیے کافی ہو تو اس سے پردہ کرو۔ اللہ کی قسم! تم مجھے کبھی نہیں دیکھو گے سوائے اس کے کہ آخرت میں دیکھو۔
