Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ غَيْلَانَ بْنَ سَلَمَةَ الثَّقَفِيَّ أَسْلَمَ وَتَحْتَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «اخْتَرْ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا» فَلَمَّا كَانَ فِي عَهْدِ عُمَرَ طَلَّقَ نِسَاءَهُ وَقَسَّمَ مَالَهُ بَيْنَ بَنِيهِ فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ فَلَقِيَهُ فَقَالَ إِنِّي أَظُنُّ الشَّيْطَانَ فِيمَا يَسْتَرِقُ مِنَ السَّمَعِ سَمِعَ بِمَوْتِكَ فَقَذَفَهُ فِي نَفْسِكَ وَلَعَلَّكَ أَنْ لَا تَمْكُثَ إِلَّا قَلِيلًا وَايْمُ اللَّهِ لَتَرُدَّنَّ نِسَاءَكَ وَلَتَرْجِعَنَّ فِي مَالِكِ أَوْ لَأُوَرِّثُهُنَّ مِنْكَ وَلَآمُرَنَّ بِقَبْرِكَ فَيُرْجَمُ كَمَا رُجِمَ قَبْرُ أَبِي رِغَالٍ
English Translation
Hadrat Ibn Umar (may Allah be well pleased with them both) narrated: Ghaylan ibn Salamah al-Thaqafi embraced Islam and he had ten wives. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) told him: "Choose four of them (and keep them)." During the reign of Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him), he divorced his wives and divided his wealth among his sons. When Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him) heard of this, he met him and said: "I think the Shaytan, from what he eavesdrops of what is heard, learned of your impending death and cast it into your heart. Perhaps you will not live but a little while. By Allah, you will take back your wives and reclaim your wealth, or I will give them their inheritance from you and order your grave to be stoned as the grave of Abu Righal was stoned."
Urdu Translation
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے: غیلان بن سلمہ ثقفی نے اسلام قبول کیا اور ان کے نکاح میں دس بیویاں تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا: ان میں سے چار کو منتخب کر لو۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں انہوں نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی اور اپنا مال اپنے بیٹوں میں تقسیم کر دیا۔ جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس کی خبر ملی تو ان سے ملے اور فرمایا: مجھے لگتا ہے کہ شیطان نے جو چوری سے سنتا ہے اس سے تمہاری موت کی خبر سنی اور تمہارے دل میں ڈال دی۔ شاید تم کچھ ہی عرصہ زندہ رہو۔ اللہ کی قسم! تم اپنی بیویوں کو واپس لو گے اور اپنا مال واپس لو گے ورنہ میں انہیں تمہاری میراث دلواؤں گا اور تمہاری قبر پر پتھر مارنے کا حکم دوں گا جیسے ابورغال کی قبر پر پتھر مارے گئے تھے۔
