Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ أَشْهَدُ بِاللَّهِ لَسَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ يَقُولُ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بِحَرَّةِ الْمَدِينَةِ مُمْسِيًا فَاسْتَقْبَلَنَا أُحُدٌ فَقَالَ «يَا أَبَا ذَرٍّ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي أُحُدًا ذَهَبًا أُمْسِي ثَالِثَةً وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ إِلَّا دِينَارٌ أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ إِلَّا أَنْ أَقُولَ بِهِ فِي عِبَادِ اللَّهِ هَكَذَا وَهَكَذَا» يَعْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ ثُمَّ قَالَ «يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّ الْمُكْثِرِينَ هُمُ الْأَقَلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ثُمَّ قَالَ لِي «لَا تَبْرَحْ حَتَّى آتِيَكَ» فَانْطَلَقَ ثُمَّ جَاءَ فِي سَوَادِ اللَّيْلِ فَسَمِعْتُ صَوْتًا فَخَشِيتُ أَنْ يَكُونَ ضِرَارَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَهَمَمْتُ أَنْ أَنْطَلِقَ ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَهُ فَجَلَسْتُ حَتَّى جَاءَ فَقُلْتُ لَهُ إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ آتِيَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَكَ لِي وَسَمِعْتُ صَوْتًا قَالَ «ذَاكَ جِبْرِيلُ جَاءَنِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ» فَقُلْتُ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ فَقَالَ «وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ» قَالَ جَرِيرٌ قَالَ الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ مِثْلَ ذَلِكَ
English Translation
Hadrat Abu Dharr (may Allah be well pleased with him) narrated: I was walking with the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) on the harra (rocky terrain) of Madinah in the evening, and Mount Uhud appeared before us. He stated: "O Abu Dharr, I would not like to have Uhud in gold and keep a single dinar of it by the third night, except a dinar I set aside for a debt, unless I spend it among the servants of Allah like this and like this" — meaning from in front, behind, to the right, and to the left. Then he stated: "O Abu Dharr, indeed those who have much (wealth) will be the least (in reward) on the Day of Resurrection." Then he said to me: "Do not leave until I return to you." He went away, and then came in the darkness of the night. I heard a sound and I feared that something harmful had happened to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), so I wanted to go, but then I remembered his words and sat until he came. I said: "O Messenger of Allah, I wanted to come to you, but then I remembered your words to me, and I heard a sound." He stated: "That was Jibril. He came to me and informed me that whoever from my ummah dies without associating anything with Allah will enter Paradise." I said: "Even if he committed adultery and theft?" He stated: "Even if he committed adultery and theft."
Urdu Translation
حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: میں شام کو مدینے کی حرّہ (پتھریلی زمین) پر حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا اور اُحد ہمارے سامنے آ گیا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: "اے ابوذر! مجھے یہ پسند نہیں کہ میرے پاس اُحد کے برابر سونا ہو اور تیسری رات تک اس میں سے ایک دینار بھی رہ جائے، سوائے اس کے جو میں قرض کے لیے رکھ لوں، مگر یہ کہ میں اسے اللہ کے بندوں میں اس طرح اور اس طرح خرچ کروں" — یعنی آگے سے، پیچھے سے، دائیں سے اور بائیں سے۔ پھر ارشاد فرمایا: "اے ابوذر! بے شک بہت مال والے قیامت کے دن سب سے کم (ثواب) والے ہوں گے۔" پھر مجھ سے فرمایا: "یہاں سے نہ جانا جب تک میں واپس نہ آؤں۔" آپ تشریف لے گئے پھر رات کے اندھیرے میں آئے۔ میں نے ایک آواز سنی تو مجھے ڈر لگا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی نقصان پہنچا ہو، میں نے چاہا کہ چلوں لیکن پھر آپ کی بات یاد آئی تو بیٹھا رہا یہاں تک کہ آپ آئے۔ میں نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! میں آپ کے پاس آنا چاہتا تھا لیکن مجھے آپ کی بات یاد آ گئی اور میں نے ایک آواز سنی تھی۔" آپ نے ارشاد فرمایا: "وہ جبریل تھے۔ انہوں نے مجھے خبر دی کہ میری امت میں سے جو بھی اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائے وہ جنت میں داخل ہو گا۔" میں نے عرض کیا: "اگرچہ اس نے زنا اور چوری کی ہو؟" آپ نے ارشاد فرمایا: "اگرچہ اس نے زنا اور چوری کی ہو۔"
