Arabic (Original)
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثَنَا بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ الْقَاضِي ثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ نَاجِيَةَ الْكَاهِلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ «تَدُورُ رَحَا الْإِسْلَامِ لِخَمْسٍ وَثَلَاثِينَ أَوْ سِتٍّ وَثَلَاثِينَ فَإِنْ يَهْلِكُوا فَسَبِيلُ مَنْ هَلَكَ وَإِنْ يُقَمْ لَهُمْ دِينُهُمْ يُقَمْ لَهُمْ سَبْعِينَ عَامًا» فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِمَا مَضَى أَوْ بِمَا بَقِيَ؟ قَالَ «بِمَا بَقِيَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ حَدِيثٌ إِسْنَادُهُ خَارِجٌ عَنِ الْكُتُبِ الثَّلَاثِ أَخْرَجْتُهُ تَعَجُّبًا إِذْ هُوَ قَرِيبٌ مِمَّا نَحْنُ فِيهِ صحيح
English Translation
Hadrat 'Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be well pleased with him) narrated that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "The millstone of Islam shall turn at thirty-five or thirty-six years. If they perish, then it is the way of those who perished before. And if their religion is established for them, it shall be established for seventy years." Hadrat 'Umar (may Allah be well pleased with him) asked: "O Messenger of Allah, is that counting from what has passed or from what remains?" He stated: "From what remains." This is a hadith whose chain of transmission is authentic, though they did not record it. Its chain is outside the three books. I have cited it out of wonderment, as it is close to what we are experiencing.
Urdu Translation
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «اسلام کی چکّی پینتیس یا چھتیس سال پر گھومے گی۔ اگر وہ ہلاک ہو جائیں تو یہ پہلے ہلاک ہونے والوں کا راستہ ہے اور اگر ان کا دین قائم ہو جائے تو ستر سال قائم رہے گا۔» حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: «یا رسول اللہ! جو گزر گیا اس سے یا جو باقی ہے اس سے؟» ارشاد فرمایا: «جو باقی ہے اس سے۔» یہ حدیث صحیح الاسناد ہے مگر انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کی اسناد تینوں کتابوں سے خارج ہے۔ میں نے اسے تعجب کی وجہ سے نقل کیا ہے کیونکہ یہ ہمارے حالات سے قریب ہے۔
