Arabic (Original)
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّنْعَانِيُّ بِمَكَّةَ حَرَسَهَا اللَّهُ تَعَالَى ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَ مَعْمَرٌ عَنْ أَبَانَ بْنِ سُلَيْمِ بْنِ قَيْسٍ الْحَنْظَلِيِّ قَالَ خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ «إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ بَعْدِي أَنْ يُؤْخَذَ الرَّجُلُ مِنْكُمُ الْبَرِيءُ فَيُؤْشَرُ كَمَا تُؤْشَرُ الْجَزُورُ وَيُشَاطُ لَحْمُهُ كَمَا يُشَاطُ لَحْمُهَا وَيُقَالُ عَاصٍ وَلَيْسَ بِعَاصٍ» قَالَ فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَهُوَ تَحْتَ الْمِنْبَرِ «وَمَتَى ذَلِكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ وَبِمَا تَشْتَدُّ الْبَلِيَّةُ وَتَظْهَرُ الْحَمِيَّةُ وَتُسْبَى الذُّرِّيَّةُ وَتَدُقُّهُمُ الْفِتَنُ كَمَا تَدُقُّ الرَّحَا ثَفَلَهَا وَكَمَا تَدُقُّ النَّارُ الْحَطَبَ؟» قَالَ «وَمَتَى ذَلِكَ يَا عَلِيُّ؟» قَالَ «إِذَا تَفَقَّهَ الْمُتَفَقِّهُ لِغَيْرِ الدِّينِ وَتَعَلَّمَ الْمُتَعَلِّمُ لِغَيْرِ الْعَمَلِ وَالْتُمِسَتِ الدُّنْيَا بِعَمَلِ الْآخِرَةِ» أبان قال أحمد تركوا حديثه «إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ بَعْدِي أَنْ يُؤْخَذَ الرَّجُلُ مِنْكُمُ الْبَرِيءُ فَيُؤْشَرُ كَمَا تُؤْشَرُ الْجَزُورُ وَيُشَاطُ لَحْمُهُ كَمَا يُشَاطُ لَحْمُهَا وَيُقَالُ عَاصٍ وَلَيْسَ بِعَاصٍ» قَالَ فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَهُوَ تَحْتَ الْمِنْبَرِ «وَمَتَى ذَلِكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ وَبِمَا تَشْتَدُّ الْبَلِيَّةُ وَتَظْهَرُ الْحَمِيَّةُ وَتُسْبَى الذُّرِّيَّةُ وَتَدُقُّهُمُ الْفِتَنُ كَمَا تَدُقُّ الرَّحَا ثَفَلَهَا وَكَمَا تَدُقُّ النَّارُ الْحَطَبَ؟» قَالَ «وَمَتَى ذَلِكَ يَا عَلِيُّ؟» قَالَ «إِذَا تَفَقَّهَ الْمُتَفَقِّهُ لِغَيْرِ الدِّينِ وَتَعَلَّمَ الْمُتَعَلِّمُ لِغَيْرِ الْعَمَلِ وَالْتُمِسَتِ الدُّنْيَا بِعَمَلِ الْآخِرَةِ» أبان قال أحمد تركوا حديثه
English Translation
Hadrat Umar ibn al-Khattab (may Allah be well pleased with him) addressed us and said: "The most frightening thing I fear for you after me is that an innocent man from among you will be seized and sawed apart as a slaughtered camel is sawed, and his flesh will be grilled as its flesh is grilled, while it is said: 'He is a rebel' — though he is not a rebel." Hadrat Ali al-Murtada (may Allah ennoble his countenance), who was beneath the pulpit, asked: "And when will that be, O Commander of the Faithful? When will the affliction intensify, when will tribal fervor emerge, when will the offspring be taken captive, and when will tribulations crush them as a millstone crushes its grain and as fire consumes firewood?" Umar said: "And when will that be, O Ali?" He said: "When the student of jurisprudence studies for other than the religion, and the learner learns for other than action, and the worldly life is sought through the deeds of the Hereafter."
Urdu Translation
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: "میرے بعد سب سے زیادہ خوفناک بات جس کا مجھے تمہارے بارے میں ڈر ہے وہ یہ ہے کہ تم میں سے ایک بے گناہ شخص پکڑا جائے اور اُسے اُونٹ کی طرح چیر دیا جائے، اُس کا گوشت اُس کے گوشت کی طرح بھونا جائے، اور کہا جائے: باغی ہے — حالانکہ وہ باغی نہیں ہے۔" حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم جو منبر کے نیچے تھے، نے عرض کیا: "اور یہ کب ہوگا اے امیر المؤمنین؟ کب بلا شدید ہوگی، کب حمیّت ظاہر ہوگی، کب ذرّیت کو قیدی بنایا جائے گا، اور کب فتنے اُنہیں کوٹیں گے جیسے چکّی اپنے آٹے کو کوٹتی ہے اور جیسے آگ لکڑی کو جلاتی ہے؟" فرمایا: "اور یہ کب ہوگا اے علی؟" فرمایا: "جب فقہ سیکھنے والا دین کے سوا کسی اور مقصد سے سیکھے، سیکھنے والا عمل کے سوا کسی اور مقصد سے سیکھے، اور آخرت کے عمل سے دنیا حاصل کی جائے۔"
