Arabic (Original)
فَحَدَّثَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَنْبَأَ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ حَدَّثَنَا عَبَايَةُ بْنُ بَكْرِ بْنِ أَبِي لَيْلَى الْمُزَنِيُّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الْبَدَّاحِ بْنِ عَاصِمٍ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ سَأَلَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ حِدْثَانَ مَا قَدِمَ فَقَالَ «أَيْنَ حَبْسُ سَيْلٍ؟» قُلْنَا لَا نَدْرِي فَمَرَّ بِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ فَقُلْتُ مِنْ أَيْنَ جِئْتَ؟ فَقَالَ مِنْ حَبْسِ سَيْلٍ فَدَعَوْتُ بِنَعْلَيَّ فَانْحَدَرْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ سَأَلْتَنَا عَنْ حَبْسِ سَيْلٍ وَإِنَّهُ لَمْ يَكُنْ لَنَا بِهِ عَلْمٌ وَإِنَّهُ مَرَّ بِي هَذَا الرَّجُلُ فَسَأَلْتُهُ فَزَعَمَ أَنَّ بِهِ أَهْلُهُ فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ «أَيْنَ أَهْلُكَ؟» قَالَ بِحَبْسِ سَيْلٍ فَقَالَ «أَخِّرْ أَهْلَكَ فَإِنَّهُ يُوشِكُ أَنْ تَخْرُجَ مِنْهُ نَارٌ تُضِيءُ أَعْنَاقَ الْإِبِلِ بِبُصْرَى» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ منكر
English Translation
Asim ibn Adiyy al-Ansari (may Allah be well pleased with him) narrated: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) asked us soon after his arrival: "Where is Habs Sayl?" We said we did not know. Then a man from Banu Sulaym passed by me, and I asked him where he came from. He said from Habs Sayl. I called for my sandals and went down to the Messenger of Allah and submitted: "O Messenger of Allah, you asked us about Habs Sayl and we had no knowledge of it. This man passed by me and I asked him, and he claimed his family lives there." The Messenger of Allah asked him: "Where is your family?" He said: "At Habs Sayl." He stated: "Move your family away, for soon a fire will emerge from it that will illuminate the necks of camels in Busra." This hadith has a sound chain of narration and they [al-Bukhari and Muslim] did not record it.
Urdu Translation
عاصم بن عدی انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی تشریف آوری کے فوراً بعد ہم سے پوچھا: "حبس سیل کہاں ہے؟" ہم نے کہا ہمیں نہیں معلوم۔ پھر بنو سلیم کا ایک شخص میرے پاس سے گزرا، میں نے پوچھا کہاں سے آئے ہو؟ اُس نے کہا حبس سیل سے۔ میں نے اپنے جوتے منگوائے اور رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے ہم سے حبس سیل کے بارے میں پوچھا تھا اور ہمیں اس کا علم نہ تھا، یہ شخص میرے پاس سے گزرا تو میں نے پوچھا، اس نے بتایا کہ اس کے اہل وہاں رہتے ہیں۔ رسول اللہ نے اُس سے پوچھا: "تمہارے اہل کہاں ہیں؟" اُس نے کہا: حبس سیل میں۔ آپ نے ارشاد فرمایا: "اپنے اہل کو وہاں سے ہٹا لو کیونکہ عنقریب وہاں سے ایک آگ نکلے گی جو بُصریٰ میں اونٹوں کی گردنیں روشن کر دے گی۔" یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
