Arabic (Original)
أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الشَّعْرَانِيُّ ثَنَا جَدِّي ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ عَطَاءٍ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ قَالَ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَوْمًا فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عِنْدَ رَأْسِي وَمِيكَائِيلَ عِنْدَ رِجْلَيَّ يَقُولُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ اضْرِبْ لَهُ مِثْلًا فَقَالَ اسْمَعْ سَمِعَ أُذُنُكَ وَاعْقِلْ عَقِلَ قَلْبُكَ مَثَلُكَ وَمَثَلُ أُمَّتِكَ كَمَثَلِ مَلِكٍ اتَّخَذَ دَارًا ثُمَّ بَنَى فِيهَا بَيْتًا ثُمَّ جَعَلَ فِيهَا مَأْدُبَةً ثُمَّ بَعَثَ رَسُولًا يَدْعُو النَّاسَ إِلَى طَعَامِهِ فَمِنْهُمْ مَنْ أَجَابَ الرَّسُولَ وَمِنْهُمْ مَنْ تَرَكَهُ فَاللَّهُ هُوَ الْمَلِكُ وَالدَّارُ الْإِسْلَامُ وَالْبَيْتُ الْجَنَّةُ وَأَنْتَ يَا مُحَمَّدُ رَسُولٌ مَنْ أَجَابَكَ دَخَلَ الْجَنَّةَ أَكَلَ مَا فِيهَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» صحيح
English Translation
Hadrat Jabir ibn Abdullah al-Ansari (may Allah be well pleased with him) narrated: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) came out to us one day and stated: 'I saw in a dream as though Jibril (peace be upon him) was at my head and Mika'il was at my feet. One of them said to the other: Strike a parable for him. He said: Listen — may your ear hear, and understand — may your heart comprehend. The parable of you and your nation is like the parable of a king who built a house, then prepared a banquet therein, then sent a messenger to invite the people to his food. Among them were those who answered the messenger and among them were those who refused him. Allah is the King, the house is Islam, the mansion is Paradise, and you, O Muhammad, are the messenger. Whoever answers you enters Paradise and partakes of what is therein.'
Urdu Translation
حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ایک دن ہمارے پاس تشریف لائے اور ارشاد فرمایا: 'میں نے خواب میں دیکھا کہ جبریل علیہ السلام میرے سرہانے ہیں اور میکائیل میرے پاؤں کی طرف۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: اس کے لیے مثال بیان کرو۔ اس نے کہا: سنو — تمہارا کان سنے، اور سمجھو — تمہارا دل سمجھے۔ تمہاری اور تمہاری امت کی مثال اس بادشاہ کی سی ہے جس نے ایک گھر بنایا، پھر اس میں ایک مکان بنایا، پھر اس میں دسترخوان بچھایا، پھر ایک قاصد بھیجا جو لوگوں کو اس کے کھانے کی دعوت دے۔ ان میں سے کچھ نے قاصد کی بات مانی اور کچھ نے انکار کر دیا۔ پس اللہ وہ بادشاہ ہے، گھر اسلام ہے، مکان جنت ہے، اور اے محمد! تم قاصد ہو۔ جس نے تمہاری بات مانی وہ جنت میں داخل ہوا اور اس کی نعمتوں سے مستفید ہوا۔'
