Arabic (Original)
كَمَا حَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ ثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَنْبَأَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ الشَّيْبَانِيِّ قَالَ بِعْتُ مَا فِي رُءُوسِ نَخْلِي مِائَةَ وَسْقٍ إِنْ زَادَ فَلَهُمْ وَإِنْ نَقَصَ فَعَلَيْهِمْ فَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ ذَلِكَ إِلَّا أَنَّهُ رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا» سكت عنه الذهبي في التلخيص «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ ذَلِكَ إِلَّا أَنَّهُ رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا» سكت عنه الذهبي في التلخيص
English Translation
Isma'il al-Shaybani narrated: I sold the (produce on) the heads of my palm trees — a hundred wasqs — if it increased it was theirs, and if it decreased it was upon them. I asked Hadrat Ibn Umar (may Allah be well pleased with him) and he said: "The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) forbade that, except that he gave a concession in the araya (selling dates on the tree for dried dates)."
Urdu Translation
اسماعیل شیبانی سے روایت ہے: میں نے اپنے کھجور کے درختوں پر لگے پھل سو وسق میں بیچے — اگر زیادہ ہوں تو ان کے اور کم ہوں تو ان پر۔ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے پوچھا تو فرمایا: "رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا، سوائے اس کے کہ آپ نے عرایا (درخت پر لگی تازہ کھجور کو خشک کھجور کے بدلے بیچنا) میں رخصت دی۔"
