Arabic (Original)
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أَنْبَأَ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدٍ الْبَيْرُوتِيُّ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ ثَنَا عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ حَارِثَةَ عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الشَّعْبَانِيِّ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ} [المائدة 105] فَقَالَ أَبُو ثَعْلَبَةَ لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْهَا خَبِيرًا أَنَا سَأَلْتُ عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَبْلًا فَقَالَ «يَا أَبَا ثَعْلَبَةَ مُرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَتَنَاهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ فَإِذَا رَأَيْتَ شُحًّا مُطَاعًا وَهَوًى مُتَّبَعًا وَدُنْيَا مُؤْثَرَةً وَرَأَيْتَ أَمْرًا لَابُدَّ لَكَ مِنْ طَلَبِهِ فَعَلَيْكَ نَفْسَكَ وَدَعْهُمْ وَعَوَامَّهُمْ فَإِنَّ وَرَاءَكُمْ أَيَّامَ الصَّبْرِ صَبْرٌ فِيهِنَّ كَقَبْضٍ عَلَى الْجَمْرِ لِلْعَامِلِ فِيهِنَّ أَجْرُ خَمْسِينَ يَعْمَلُ مِثْلَ عَمَلِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ صحيح
English Translation
Hadrat Abu Tha'labah (may Allah be well pleased with him) narrated: I asked the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) about this verse: {O you who believe, take care of your own selves; those who go astray cannot harm you when you are guided} [al-Ma'idah 5:105]. He stated: "O Abu Tha'labah, enjoin good and forbid evil. But when you see greed being obeyed, desires being followed, the world being preferred, and every person admiring his own opinion, then take care of yourself and leave the common people. For indeed, after you there will come days of patience; patience in them will be like grasping hot coals. The one who acts in them shall have the reward of fifty who do the like of his deeds." This is a hadith with an authentic chain of transmission, though neither [al-Bukhari nor Muslim] recorded it. [Authentic].
Urdu Translation
حضرت ابوثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے اس آیت کے بارے میں پوچھا: {اے ایمان والو! اپنی فکر کرو، جب تم ہدایت پر ہو تو جو گمراہ ہوا وہ تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا} [المائدہ 105]۔ آپ نے ارشاد فرمایا: «اے ابوثعلبہ! نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو، لیکن جب تم دیکھو کہ بخل کی اطاعت ہو رہی ہے، خواہشات کی پیروی ہو رہی ہے، دنیا کو ترجیح دی جا رہی ہے اور ہر شخص اپنی رائے پر فخر کر رہا ہے، تو اپنی ذات کی فکر کرو اور عوام کو چھوڑ دو۔ بے شک تمہارے بعد صبر کے دن آنے والے ہیں، ان میں صبر کرنا انگاروں کو مٹھی میں پکڑنے جیسا ہوگا۔ ان دنوں میں عمل کرنے والے کو پچاس لوگوں جتنا اجر ملے گا جو اسی جیسا عمل کرتے ہیں۔» یہ حدیث صحیح الاسناد ہے مگر انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ صحیح۔
