Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ الْقَاسِمِ بْنُ الْقَاسِمِ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْبَاشَانِيُّ ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ أَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَوْمًا فَدَعَا بِلَالًا فَقَالَ يَا بِلَالُ بِمَ سَبَقْتَنِي إِلَى الْجَنَّةِ الْبَارِحَةَ فَسَمِعْتُ خَشْخَشَتَكَ أَمَامِي فَأَتَيْتُ عَلَى قَصْرٍ مِنْ ذَهَبٍ مُرَبَّعٍ مُشْرِفٍ فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ؟ فَقَالُوا لِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَقُلْتُ أَنَا قُرَشِيٌّ لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ؟ قَالُوا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ بِلَالٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَذَّنْتُ قَطُّ إِلَّا صَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ وَمَا أَصَابَنِي حَدَثٌ إِلَّا تَوَضَّأْتُ عِنْدَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «بِهَذَا» صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ على شرط البخاري ومسلم
English Translation
Abu al-Abbas ibn al-Qasim ibn al-Qasim informed us, Muhammad ibn Musa al-Bashani narrated to us, Ali ibn al-Hasan ibn Shaqiq narrated to us, al-Husayn ibn Waqid informed us, Abdullah ibn Burayda narrated to us from his father (may Allah be well pleased with him) who said: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) woke up one day, called Hadrat Bilal (may Allah be well pleased with him) and said: "O Bilal, by what have you surpassed me to Paradise last night? For I heard the sound of your footsteps ahead of me. I came upon a square, elevated palace of gold and asked: Whose is this palace? They said: A man from Quraysh. I said: I am a Qurayshi - whose is this palace? They said: It belongs to Umar ibn al-Khattab." Hadrat Bilal (may Allah be well pleased with him) said: O Messenger of Allah, I have never called the adhan without praying two rak'ahs, and no impurity has ever befallen me without my performing ablution at that moment. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "It is because of this." This is sound according to the conditions of the two Shaykhs, and they did not narrate it.
Urdu Translation
ابو العباس بن القاسم بن القاسم نے ہمیں خبر دی، محمد بن موسیٰ باشانی نے ہمیں بیان کیا، علی بن الحسن بن شقیق نے ہمیں بیان کیا، حسین بن واقد نے ہمیں خبر دی، عبد اللہ بن بریدہ نے اپنے والد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا، فرمایا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے صبح حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلایا اور ارشاد فرمایا: «اے بلال! رات تم مجھ سے جنت میں آگے کس چیز سے نکل گئے؟ میں نے اپنے آگے تمہارے قدموں کی آواز سنی۔ میں سونے کے ایک چوکور بلند محل کے پاس آیا اور پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ انہوں نے کہا: قریش کے ایک شخص کا۔ میں نے کہا: میں بھی قرشی ہوں، یہ محل کس کا ہے؟ انہوں نے کہا: عمر بن الخطاب کا۔» حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے کبھی اذان نہیں دی مگر دو رکعت نماز پڑھی، اور مجھے کبھی حدث نہیں لاحق ہوا مگر میں نے فوراً وضو کر لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «اسی وجہ سے۔» یہ شیخین کی شرط پر صحیح ہے اور انہوں نے اسے نقل نہیں کیا۔
