Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ بِالرِّيِّ ثنا أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ أَنْبَأَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَا أَصَابَ دَاوُدَ مَا أَصَابَهُ بَعْدَ الْقَدَرِ إِلَّا مِنْ عُجْبٍ عَجِبَ بِهِ مِنْ نَفْسِهِ وَذَلِكَ أَنَّهُ قَالَ يَا رَبِّ مَا مِنْ سَاعَةٍ مِنْ لَيْلٍ وَلَا نَهَارٍ إِلَّا وَعَابِدٍ مِنْ آلِ دَاوُدَ يعَبْدُكَ يُصَلِّي لَكَ أَوْ يُسَبِّحُ أَوْ يُكَبِّرُ وَذَكَرَ أَشْيَاءَ فَكَرِهَ اللَّهُ ذَلِكَ فَقَالَ «يَا دَاوُدُ إِنَّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ إِلَّا بِي فَلَوْلَا عَوْنِي مَا قَوِيتَ عَلَيْهِ وَجَلَالِي لَأَكِلَنَّكَ إِلَى نَفْسِكَ يَوْمًا» قَالَ يَا رَبِّ فَأَخْبِرْنِي بِهِ فَأَصَابَتْهُ الْفِتْنَةُ ذَلِكَ الْيَوْمِ
English Translation
Isma'il ibn Muhammad al-Faqih informed us in al-Rayy — Abu Hatim Muhammad ibn Idris narrated to us — Sulayman ibn Dawud al-Hashimi informed us — Abd al-Rahman ibn Abi al-Zinad narrated to us — from Musa ibn Uqba — from Kurayb — from Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both) who said: What befell Dawud (upon him be peace) after the divine decree was only because of self-admiration that overtook him. He said: O Lord, there is no hour of night or day except that a worshipper from the family of Dawud is worshipping You -- praying, glorifying, or magnifying You. And he mentioned other things. Allah disliked that from him and said: O Dawud, that was only through Me; had it not been for My assistance, you would not have been able to do it. By My Majesty, I shall leave you to yourself for one day. He said: O Lord, inform me of it. So the trial befell him that very day.
Urdu Translation
اسماعیل بن محمد الفقیہ نے ہمیں ری میں خبر دی — ابو حاتم محمد بن ادریس نے ہم سے بیان کیا — سلیمان بن داؤد الہاشمی نے ہمیں خبر دی — عبد الرحمن بن ابی الزناد نے ہم سے بیان کیا — موسیٰ بن عقبہ سے — کریب سے — حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ فرمایا: حضرت داؤد علیہ السلام کو تقدیر کے بعد جو کچھ پہنچا وہ صرف اُس عجب کی وجہ سے تھا جو اُنہیں اپنے بارے میں ہو گیا تھا۔ اُنہوں نے عرض کیا: اے رب! رات اور دن کی کوئی گھڑی ایسی نہیں جس میں آلِ داؤد کا کوئی عابد تیری عبادت نہ کر رہا ہو -- تیرے لیے نماز پڑھتا ہو، تسبیح کرتا ہو یا تکبیر کہتا ہو۔ اور اُنہوں نے اور چیزوں کا ذکر کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ناپسند فرمایا اور فرمایا: اے داؤد! یہ صرف میرے سبب تھا، اگر میری مدد نہ ہوتی تو تم اس پر قادر نہ ہوتے۔ میری عظمت کی قسم! میں تمہیں ایک دن تمہارے نفس کے حوالے کروں گا۔ اُنہوں نے عرض کیا: اے رب! مجھے اُس دن کی خبر دے۔ تو اُسی دن آزمائش آ پڑی۔
