Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي أَبُو ثَابِتٍ زَيْدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ عَنْ أَبِيهِ مُحَمَّدٍ أَنَّ أَبَاهُ ثَابِتَ بْنَ قَيْسٍ فَارَقَ جَمِيلَةَ بِنْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ وَهِيَ حَامِلَةٌ بِمُحَمَّدٍ فَلَمَّا وَلَدَتْهُ حَ��َفَتْ أَنْ لَا تُلْبِنَهُ مِنْ لَبَنِهَا فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَبَزَقَ فِي فِيهِ وَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةِ عَجْوَةٍ وَسَمَّاهُ مُحَمَّدًا وَقَالَ «اخْتَلِفْ بِهِ فَإِنَّ اللَّهَ رَازِقُهُ» فَأَتَيْتُهُ الْيَوْمَ الْأَوَّلَ وَالثَّانِي وَالثَّالِثَ فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنَ الْعَرَبِ تَسْأَلُ عَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ فَقُلْتُ مَا تُرِيدِينَ مِنْهُ؟ أَنَا ثَابِتٌ فَقَالَتْ أُرِيتُ فِي مَنَامِي هَذِهِ كَأَنِّي أُرْضِعُ ابْنًا لَهُ يُقَالُ لَهُ مُحَمَّدٌ فَقَالَ فَأَنَا ثَابِتٌ وَهَذَا ابْنِي مُحَمَّدٌ قَالَ وَإِنَّ دِرْعَهَا يَتَعَصَّرُ مِنْ لَبَنِهَا
English Translation
Isma'il ibn Muhammad ibn Thabit ibn Qays ibn Shammas narrated from his father Muhammad that his father Thabit ibn Qays parted from Jamila bint Abdullah ibn Ubayy while she was pregnant with Muhammad. When she gave birth, she swore she would not nurse him. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) called for the child, spat in his mouth, rubbed a date on his palate, named him Muhammad, and stated: 'Take him back and forth (for nursing), for Allah will provide for him.' He was brought on the first, second, and third day, and then a Bedouin woman came asking about Thabit ibn Qays, saying: 'I saw in my dream that I was nursing a son of his named Muhammad.' Thabit said: 'I am Thabit and this is my son Muhammad.' And her garment was dripping with milk.
Urdu Translation
اسماعیل بن محمد بن ثابت بن قیس بن شماس نے اپنے والد محمد سے روایت کیا کہ اُن کے والد ثابت بن قیس نے جمیلہ بنت عبداللہ بن اُبَی کو جدا کیا جبکہ وہ محمد سے حاملہ تھیں۔ جب اُنہوں نے جنم دیا تو قسم کھائی کہ اُسے دودھ نہیں پلائیں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بچے کو بلایا، اُس کے منہ میں لعاب مبارک ڈالا، کھجور سے تحنیک کی، اُس کا نام محمد رکھا اور ارشاد فرمایا: اِسے لے جاتے رہو، اللہ اِس کو رزق دے گا۔ پہلے، دوسرے اور تیسرے دن لے گئے۔ پھر ایک عرب عورت آئی ثابت بن قیس کو ڈھونڈتی ہوئی اور کہنے لگی: میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اُن کے بیٹے محمد نامی کو دودھ پلا رہی ہوں۔ ثابت نے کہا: میں ثابت ہوں اور یہ میرا بیٹا محمد ہے۔ اور اُس عورت کی قمیص دودھ سے بھیگی ہوئی تھی۔
