Arabic (Original)
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى ثنا مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ثنا وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ لَمَّا لَقِيَ النَّبِيُّ ﷺ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ حُنَيْنٍ «نَزَلَ عَنْ بَغْلَتِهِ فَتَرَجَّلَ» صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَلَمْ يَصِحَّ أَنَّهُ ﷺ تَرَجَّلَ وَحَارَبَ رَاجِلًا إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ» على شرط البخاري ومسلم لَمَّا لَقِيَ النَّبِيُّ ﷺ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ حُنَيْنٍ «نَزَلَ عَنْ بَغْلَتِهِ فَتَرَجَّلَ» صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَلَمْ يَصِحَّ أَنَّهُ ﷺ تَرَجَّلَ وَحَارَبَ رَاجِلًا إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ» على شرط البخاري ومسلم
English Translation
Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him) narrated that Hadrat Abu Talha (may Allah be well pleased with him) was shooting arrows on the day of Uhud in front of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), while the Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) was behind him. Abu Talha was an excellent archer, and whenever he shot, the Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) would raise himself to see where his arrow landed. Abu Talha would raise his chest and say: 'May my father be sacrificed for you, O Messenger of Allah! Do not let an arrow strike you—my chest is before yours!' Abu Talha would offer himself in front of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) saying: 'O Messenger of Allah, I am the strongest of my people, so command me as you wish.'
Urdu Translation
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ غزوۂ احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے تیر اندازی کر رہے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ان کے پیچھے تھے۔ ابو طلحہ ماہر تیر انداز تھے، اور جب وہ تیر چلاتے تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم جھانک کر دیکھتے کہ تیر کہاں لگا۔ ابو طلحہ اپنا سینہ اونچا کرتے اور کہتے: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ! کوئی تیر آپ کو نہ لگے، میرا سینہ آپ کے سینے سے پہلے ہے! ابو طلحہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اپنے آپ کو پیش کرتے اور کہتے: یا رسول اللہ! میں اپنی قوم میں سب سے طاقتور ہوں، مجھے جو حکم چاہیں دیں۔
