Arabic (Original)
حَدَّثَنَا الْأُسْتَاذُ أَبُو الْوَلِيدِ حَسَّانُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ قُرَيْشٍ قَالَا حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بُرْدَانِ قَطَرِيَّانِ غَلِيظَانِ خَشِنَانِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ثَوْبَيْكَ خَشِنَانِ غَلِيظَانِ وَإِنَّكَ تَرْشَحُ فِيهِمَا فَيَثْقُلَانِ عَلَيْكَ وَإِنَّ فُلَانًا قَدِمَ لَهُ بَزٌّ مِنَ الشَّامِ فَلَوْ بَعَثْتَ إِلَيْهِ فَأَخَذْتَ مِنْهُ ثَوْبَيْنِ بِنَسِيئَةٍ إِلَى مَيْسَرَةَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ قَدْ عَلِمْتُ مَا يُرِيدُ مُحَمَّدٌ يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِثَوْبِي وَيَمْطُلُنِي فِيهِمَا فَأَتَى الرَّسُولُ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ «قَدْ كَذَبَ قَدْ عَلِمُوا أَنِّي أَتْقَاهُمْ لِلَّهِ وَأَدَّاهُمْ لِلْأَمَانَةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِي وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ مُخْتَصَرًاعلى شرط البخاري
English Translation
Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her) narrated: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) had two thick, coarse Qatari cloaks. I submitted: 'O Messenger of Allah, your two garments are coarse and thick, and you perspire in them and they become heavy upon you. So-and-so has received some cloth from Syria; if you were to send for two garments on credit until you have means.' So the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) sent someone to him, but the man said: 'I know what Muhammad wants — he wants to take my cloth and delay payment.' The messenger came back and informed the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), who stated: 'He has lied. They know well that I am the most God-fearing among them and the most trustworthy in fulfilling obligations.'
Urdu Translation
اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دو موٹی کھردری قطری چادریں تھیں۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کے دونوں کپڑے کھردرے اور موٹے ہیں، آپ کو اُن میں پسینہ آتا ہے اور وہ بھاری ہو جاتے ہیں۔ فلاں شخص کے پاس شام سے کپڑا آیا ہے، اگر آپ اُس کے پاس پیغام بھیجیں تو وسعت ہونے تک ادھار دو کپڑے لے لیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اُس کے پاس پیغام بھیجا۔ اُس شخص نے کہا: مجھے معلوم ہے محمد کیا چاہتے ہیں، میرے کپڑے لے جانا چاہتے ہیں اور ٹال مٹول کریں گے۔ قاصد نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور خبر دی تو آپ نے ارشاد فرمایا: «اُس نے جھوٹ کہا، وہ جانتے ہیں کہ میں اُن میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور امانت ادا کرنے والا ہوں۔»
