Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي بِهَمْدَانَ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ بِمِثْلِ بَيْضَةٍ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصَبْتُ هَذِهِ مِنْ مَعْدِنٍ فَخُذْهَا فَهِيَ صَدَقَةٌ مَا أَمْلِكُ غَيْرَهَا فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ قِبَلِ رُكْنِهِ الْأَيْمَنِ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ قِبَلِ رُكْنِهِ الْأَيْسَرِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ خَلْفِهِ فَأَخَذَهَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَخَذَفَهُ بِهَا فَلَوْ أَصَابَتْهُ لَأَوْجَعَتْهُ وَلَعَقَرَتْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «يَأْتِي أَحَدُكُمْ بِمَا يَمْلِكُ فَيَقُولُ هَذِهِ صَدَقَةٌ ثُمَّ يَقْعُدُ يَسْتَكِفُّ النَّاسَ خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى»
English Translation
Hadrat Jabir ibn Abdullah al-Ansari (may Allah be well pleased with them both) narrated: We were with the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) when a man came with a piece of gold the size of an egg and said: "O Messenger of Allah, I obtained this from a mine; take it as charity, for I have nothing else." The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) turned away from him, then the man repeated his request from each side, and the Prophet took it from him and threw it at him in a manner that, had it hit him, it would have hurt him. Then he stated: "One of you brings all he owns and then sits begging people. Charity is only from surplus."
Urdu Translation
حضرت جابر بن عبد اللہ الانصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے: ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے کہ ایک شخص انڈے کے برابر سونے کا ٹکڑا لے کر آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مَیں نے یہ کان سے حاصل کیا ہے، اسے صدقے میں لے لیجیے کیونکہ میرے پاس اس کے سوا کچھ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا، پھر اس شخص نے ہر طرف سے درخواست دہرائی، تو آپ نے اسے لے کر اس کی طرف پھینکا اس طرح کہ اگر لگ جاتا تو تکلیف دیتا۔ پھر فرمایا: «تم میں سے کوئی اپنا سارا مال لے آتا ہے پھر لوگوں سے مانگتا بیٹھتا ہے۔ صدقہ صرف فاضل مال سے ہوتا ہے۔»
