Arabic (Original)
وَسَأَلْتُهُ عَنْ بَيْعِ الْخَمْرِ مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّ لَنَا أَعْنَابًا، وَإِنَّا نَتَّخِذُ مِنْهَا هَذِهِ الْخُمُورَ فَنَبِيعُهَا مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ ؟. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَهْدَى رَجُلٌ مِنْ ثَقِيفٍ أَوْ دَوْسٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاوِيَةً مِنْ خَمْرٍ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا عَلِمْتَ يَا أَبَا فُلَانٍ أَنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَهَا؟ ". قَالَ : لَا وَاللَّهِ. قَالَ :" فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَهَا ". فَالْتَفَتَ إِلَى غُلَامِهِ، فَقَالَ : اخْرُجْ بِهَا إِلَى الْحَزْوَرَةِ فَبِعْهَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوَ مَا عَلِمْتَ يَا أَبَا فُلَانٍ، أَنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا، حَرَّمَ بَيْعَهَا؟ ". قَالَ : فَأَمَرَ بِهَا فَأُفْرِغَتْ فِي الْبَطْحَاءِ
English Translation
He (Ibn Abbas) was also asked about selling wine to the People of the Covenant (Ahl al-Dhimmah). The questioner said: We have grapevines and we make wine from them and sell it to the People of the Covenant. Ibn Abbas (may Allah be well pleased with them) said: A man from Thaqif or Daws gifted a leather container of wine to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) during the Farewell Pilgrimage. The Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) said to him: 'Did you not know, O Abu so-and-so, that Allah has forbidden it?' He said: 'No, by Allah.' He stated: 'Indeed, Allah has forbidden it.' The man then turned to his servant and said: 'Take it out to al-Hazwarah and sell it.' The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said: 'Did you not know, O Abu so-and-so, that the One Who forbade drinking it also forbade selling it?' So he ordered it to be poured out onto the ground.
Urdu Translation
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے اہلِ ذمہ کو شراب بیچنے کے بارے میں بھی پوچھا گیا۔ سائل نے کہا: ہمارے پاس انگور ہیں اور ہم ان سے شراب بناتے ہیں اور اہلِ ذمہ کو بیچتے ہیں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا: ثقیف یا دوس کے ایک شخص نے حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو شراب کا ایک مشکیزہ ہدیہ کیا۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: 'کیا تمہیں معلوم نہیں اے ابو فلاں کہ اللہ نے اسے حرام کر دیا ہے؟' اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! آپ نے ارشاد فرمایا: 'بے شک اللہ نے اسے حرام کر دیا ہے۔' اس نے اپنے غلام کی طرف مڑ کر کہا: اسے حزورہ لے جاؤ اور بیچ دو۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: 'کیا تمہیں معلوم نہیں اے ابو فلاں کہ جس نے اس کا پینا حرام کیا ہے اس نے اس کا بیچنا بھی حرام کیا ہے؟' پھر اس نے حکم دیا تو وہ میدان میں بہا دی گئی۔
