Arabic (Original)
وَعَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ - رضى الله عنه - قَالَ: { أُتِِيَ النَّبِيُّ - صلى الله عليه وسلم -بِلِصٍّ قَدِ اعْتَرَفَ اعْتِرَافًا، وَلَمْ يُوجَدْ مَعَهُ مَتَاعٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -"مَا إِخَالَكَ سَرَقْتَ". قَالَ: بَلَى، فَأَعَادَ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَأَمَرَ بِهِ فَقُطِعَ. وَجِيءَ بِهِ، فَقَالَ: "اسْتَغْفِرِ اللَّهَ وَتُبْ إِلَيْهِ"، فَقَالَ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: "اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ" ثَلَاثًا } أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ وَاللَّفْظُ لَهُ، وَأَحْمَدُ، وَالنَّسَائِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ 1 .1 - . 147 1234- وعن أبي أمية المخزومي رضي الله عنه قال: أتى النبي صلى الله عليه وسلم بلص قد اعترف اعترافا، ولم يوجد معه متاع، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ما إخالك سرقت". قال: بلى. فأعاد عليه مرتين أو ثلاثا، فأمر به فقطع. وجئ به، فقال: "استغفر الله وتب إليه". فقال: أستغفر الله وأتوب إليه. فقال: "اللهم تب عليه" ثلاثا أخرجه أبو داود واللفظ له، وأحمد، والنسائي، ورجاله ثقات.
English Translation
Hadrat Abu Umaiyah al-Makhzumi (RAA) narrated, 'A thief who has made a confession was brought to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) but no goods were found with him. Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) stated to him, "I do not think you have stolen!" The man replied, 'Yes I have.' The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) repeated it to him twice or thrice, so he gave his commands concerning him, and his hand was cut off. He was then brought to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) who said to him, "Ask forgiveness of Allah and turn to Him in repentance." The man said, 'I ask Allah's forgiveness and turn to Him in repentance.' The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) then said three times, "O Allah! forgive him." Related by Abu Dawud, Ahmad and An-Nasa'i with a trustworthy chain or narrators, and it is Abu Dawud's version.
Urdu Translation
حضرت ابو امیہ مخزومی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا جس نے اعتراف کر لیا تھا مگر اس کے پاس سے کوئی مال برآمد نہیں ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "مجھے نہیں لگتا کہ تو نے چوری کی ہے"۔ اس نے عرض کیا: ہاں (میں نے چوری کی ہے)۔ آپ نے دو یا تین مرتبہ یہی بات دہرائی، پھر اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا اور وہ کاٹا گیا۔ پھر اسے آپ کے پاس لایا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: "اللہ سے استغفار کر اور اس کی طرف توبہ کر"۔ اس نے عرض کیا: میں اللہ سے استغفار کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں۔ آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا: "اے اللہ! اس کی توبہ قبول فرما"۔ اسے حضرت ابوداؤد نے یہی الفاظ نقل کیے ہیں، نیز احمد اور نسائی نے بھی ثقہ راویوں کے ساتھ روایت کیا ہے۔
