Arabic (Original)
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اَللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: { دَخَلَتْ هِنْدُ بِنْتُ عُتْبَةَ -اِمْرَأَةُ أَبِي سُفْيَانَ- عَلَى رَسُولِ اَللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -. فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اَللَّهِ! إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ لَا يُعْطِينِي مِنْ اَلنَّفَقَةِ مَا يَكْفِينِي وَيَكْفِي بَنِيَّ, إِلَّا مَا أَخَذْتُ مِنْ مَالِهِ بِغَيْرِ عِلْمِهِ, فَهَلْ عَلَِيَّ فِي ذَلِكَ مِنْ جُنَاحٍ? فَقَالَ: "خُذِي مِنْ مَالِهِ بِالْمَعْرُوفِ مَا يَكْفِيكِ, وَيَكْفِي بَنِيكِ". } مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ 1 .1 - صحيح. رواه البخاري (5364)، ومسلم (1714) واللفظ لمسلم.
English Translation
It is narrated by Hadrat ' Aishah (may Allah be well pleased with him) that Hind daughter of 'Utbah - wife of Abu Sufyan - came to Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) and said, "O Allah's Messenger, Abu Sufyan is a miser who does not give me and my sons enough maintenance, except what I take from his wealth without his knowledge. Is there any blame on me for doing this?" He replied, "Take from his wealth what is reasonable and enough for you and your sons." .
Urdu Translation
حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: ہند بنت عتبہ (ابو سفیان کی بیوی) رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ابو سفیان بخیل آدمی ہیں، مجھے اور میرے بچوں کو اتنا خرچہ نہیں دیتے جو ہمیں کافی ہو، سوائے اس کے جو میں ان کے مال سے ان کے علم کے بغیر لوں۔ تو کیا مجھ پر اس میں کوئی گناہ ہے؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے مال سے دستور کے مطابق اتنا لے لو جو تمہیں اور تمہارے بچوں کو کافی ہو۔ متفق علیہ۔
