Arabic (Original)
وَعَنْ جَابِرٍ - رضى الله عنه - قَالَ: { تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنَّا, فَغَسَّلْنَاهُ, وَحَنَّطْنَاهُ, وَكَفَّنَّاهُ, ثُمَّ أَتَيْنَا بِهِ رَسُولَ اَللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -فَقُلْنَا: تُصَلِّي عَلَيْهِ? فَخَطَا خُطًى, ثُمَّ قَالَ: " أَعَلَيْهِ دَيْنٌ? " قُلْنَا: دِينَارَانِ، فَانْصَرَفَ, فَتَحَمَّلَهُمَا أَبُو قَتَادَةَ، فَأَتَيْنَاهُ, فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ: اَلدِّينَارَانِ عَلَيَّ، فَقَالَ رَسُولُ اَللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -" أُحِقَّ اَلْغَرِيمُ وَبَرِئَ مِنْهُمَا اَلْمَيِّتُ? " قَالَ: نَعَمْ, فَصَلَّى عَلَيْهِ } رَوَاهُ أَحْمَدُ, وَأَبُو دَاوُدَ, وَالنَّسَائِيُّ, وَصَحَّحَهُ اِبْنُ حِبَّانَ, وَالْحَاكِمُ 1 .1 - صحيح. رواه أحمد ( 3 / 330 )، وأبو داود ( 3343 )، والنسائي ( 4 / 65 - 66 )، وابن حبان ( 3064 )، واللفظ لأحمد وسنده حسن، وأما الباقون فلهم لفظ آخر وسندهم على شرط الشيخين، وتفصيل ذلك " بالأصل ".
English Translation
It is narrated by Hadrat Jabir (may Allah be well pleased with him) that a man from among us died, so we washed, embalmed and shrouded him. We then brought him to Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) and asked him to pray over him. He went forward some steps and then asked, "Does he have any debt against him?" We replied, "Two Dinars." He turned away, but Hadrat Abu Qatada (may Allah be well pleased with him) took upon himself the bearing of them. We then came to him (again) (blessings and peace of Allah be upon him) and Hadrat Abu Qatada (may Allah be well pleased with him) said: "I shall discharge the two Dinars." Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) thereupon said, " a right to the creditor; and the dead man will then be free from them?" He replied, "Yes." So, he prayed over him. .
Urdu Translation
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ہم میں سے ایک شخص فوت ہوا، ہم نے اسے غسل دیا، خوشبو لگائی اور کفن دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لائے اور عرض کیا: اس کی نمازِ جنازہ پڑھائیے۔ آپ چند قدم آگے بڑھے، پھر فرمایا: کیا اس پر قرض ہے؟ ہم نے عرض کیا: دو دینار۔ آپ واپس ہو گئے۔ تو حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ قرض اپنے ذمے لے لیا۔ ہم پھر آپ کے پاس آئے اور حضرت ابو قتادہ نے کہا: دو دینار میرے ذمے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا قرض خواہ کا حق پورا ہو گیا اور میت اس سے بری ہو گئی؟ عرض کیا: جی ہاں۔ تو آپ نے نماز پڑھائی۔ اسے احمد، ابو داؤد اور نسائی نے روایت کیا اور ابن حبان اور حاکم نے صحیح قرار دیا۔
