English Translation
Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet (peace be upon him) and his Companions entered ihram for Hajj, and none of them had a sacrificial animal except the Prophet (peace be upon him) and Talhah (may Allah be pleased with him). Ali (may Allah be pleased with him) came from Yemen with a sacrificial animal and said: 'I have entered ihram for the same purpose as the Prophet (peace be upon him).' The Prophet (peace be upon him) ordered his Companions: 'Convert your ihram into Umrah, perform tawaf, cut your hair short, and come out of ihram — except whoever has a sacrificial animal with him.' They said: 'How shall we go to Mina when our private parts are still dripping (with semen, i.e., after being intimate with wives)?' When this reached the Prophet (peace be upon him), he said: 'If I had known beforehand what I know now, I would not have brought the sacrificial animal. And if I did not have a sacrificial animal, I would have come out of ihram.'"
Urdu Translation
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہنبی کریمصلی اللہ علیہ وسلماور آپصلی اللہ علیہ وسلمکے اصحاب نے حج کا احرام باندھا اور ان میں سے کسی کے پاس قربانی نہ تھی سوائے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلماور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے اور ان کے ہمراہ قربانی تھی پس انہوں کے کہا کہ میں نے بھی اسی چیز کا احرام باندھا ہے جس کا نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے احرام باندھا ہے۔ پھر نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے اصحاب کو یہ حکم دیا:”اس احرام کو عمرہ کا احرام کر دیں اور طواف کر کے بال کتروا دیں اور احرام سے باہر ہو جائیں سوائے اس شخص کے کہ جس کے ہمراہ قربانی ہو۔“پھر صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ ہم منیٰ کیونکر جائیں؟ حالانکہ ہمارے عضو مخصوص سے منی ٹپک رہی ہو گی۔ یہ خبر نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکو پہنچی تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”کاش! اگر میں پہلے سے اس بات کو جان لیتا جس کو میں نے اب جانا ہے تو میں اپنے ہمراہ قربانی نہ لاتا اور اگر میرے ساتھ قربانی نہ ہوتی تو میں احرام سے باہر ہو جاتا۔“[مختصر صحيح بخاري/حدیث: 827]
