English Translation
Narrated Ubaidullah bin Adi bin Khiyar: He said to Wahshi: "Will you not tell us about the killing of Hamzah?" Wahshi said: "Yes. Hamzah killed Tuaymah bin Adi bin Khiyar at Badr. My master Jubair bin Mutim said to me: 'If you kill Hamzah in revenge for my uncle, you are free.' When the Quraysh marched out in the year of the Battle of Uhud — Uhud being a mountain with a valley between it and Al-Aynayn — I went out with the fighters. When the armies lined up, Siba' came out and challenged for a duel. Hamzah came forward and said: 'O Siba'! O son of Umm Anmar, the circumciser of women! Do you oppose Allah and His Messenger?' Then Hamzah attacked and killed Siba' swiftly. I lay in ambush behind a rock waiting for Hamzah. When he came near, I hurled my weapon at him. It struck him below the navel and came out between his buttocks. That was his final moment. When the Quraysh returned to Makkah, I returned too and stayed there. When Islam spread in Makkah after its conquest, I fled to Taif. When the people of Taif sent envoys to the Messenger of Allah, I was told that he does not harm envoys. So I went with them to the Messenger of Allah. When he saw me, he asked: 'Are you Wahshi?' I said: 'Yes.' He said: 'You killed Hamzah?' I said: 'Yes, as the people have told you.' He said: 'Can you hide your face from me?' So I left. After the Messenger of Allah died and Musaylimah the Liar emerged, I thought I would go and fight with the Muslims — perhaps I could kill Musaylimah to make amends for Hamzah. I went out with the army. Suddenly I saw Musaylimah standing in a gap in a wall, like a dusty-colored camel with disheveled hair. I threw the same weapon that had killed Hamzah at his chest, and it went through between his shoulders. Then an Ansari man rushed at him and struck his skull with a sword, beheading him."
Urdu Translation
عبیداللہ بن عدی بن خیار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہانھوں نے وحشی سے کہا کیا تم ہمیں قتل (شہادت) حمزہ رضی اللہ عنہ کی خبر نہیں بتاؤ گے؟ اس نے کہا ہاں (کیوں نہ بتاؤں گا۔ قتل حمزہ رضی اللہ عنہ کا قصہ یوں ہے) کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نے بدر کے دن طعیمہ بن عدی بن خیار کو قتل کیا تھا، مجھ سے میرے آقا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے کہا اگر تو میرے چچا کے عوض حمزہ رضی اللہ عنہ کو مار ڈالے تو، تو آزاد ہے۔ وحشی نے کہا کہ جب قریش کے لوگ کوہ عنیین کی لڑائی کے سال نکلے اور عنیین احد کے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ ہے۔ احد کے اور اس کے درمیان ایک نالہ ہے۔ اس وقت میں بھی لڑنے والوں کے ساتھ نکلا جب لوگ لڑائی کی صفیں باندھ چکے، تو سباع (بن عبدالعزیٰ) نے (صف سے) نکل کر کہا کہ کیا کوئی لڑنے والا ہے؟ وحشی کہتے ہیں کہ سیدالشہداء حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے اس کے مقابل نکل کر کہا اے سباع! اے ام انمار کے بیٹے! جو عورتوں کا ختنہ کرتی تھی، کیا تو اللہ اور اس کے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی مخالفت کرتا ہے؟ وحشی نے کہا پھر انھوں نے سباع پر حملہ کیا اور سباع گزشتہ کل کی طرح مٹ گیا۔ وحشی نے کہا پھر میں قتل حمزہ رضی اللہ عنہ کے واسطے ایک پتھر کی آڑ میں گھات لگا کر بیٹھ گیا۔ جب وہ میرے قریب آئے تو میں نے اپنا ہتھیار پھینک مارا، وہ ان کو زیر ناف اس طرح لگا کہ وہ ان کے دونوں سرین کے پار ہو گیا۔ وحشی نے کہا کہ یہی ان کا آخری وقت تھا۔ جب سب قریش مکہ میں واپس آئے تو میں بھی ان کے ساتھ واپس آ کر مکہ میں مقیم ہو گیا۔ جب (فتح مکہ کے بعد) مکہ میں بھی اسلام پھیل گیا تو میں طائف چلا گیا۔ جب طائف والوں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی طرف قاصد بھیجے تو مجھ سے کہا کہ وہ قاصدوں کو نہیں ستاتے۔ چنانچہ میں ان کے ساتھ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے جب مجھے دیکھا تو فرمایا:”کیا وحشی تو ہی ہے؟“میں نے عرض کی جی ہاں آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”حمزہ رضی اللہ عنہ کو تو نے ہی شہید کیا تھا؟“میں نے عرض کی جی ہاں، جو کچھ آپ سے لوگوں نے بیان کیا، وہی ماجرا ہے (یعنی میں نے اپنے آقا کے حکم سے مارا تھا) آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا کیا تو مجھ سے اپنا منہ چھپا سکتا ہے؟ وحشی کہتے ہیں کہ میں (آپصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس سے اٹھ کر) باہر آ گیا۔ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی وفات کے بعد جب مسیلمہ کذاب نے خروج (یعنی دعویٰ نبوت) کیا تو میں نے سوچا کہ میں بھی مسلمانوں کے پاس چلوں، شاید مسیلمہ کو مار کر حمزہ رضی اللہ عنہ کا بدلہ اتار سکوں۔ وحشی نے کہا کہ میں (ان) لوگوں کے ساتھ (جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے روانہ کیے تھے) نکلا اور مسیلمہ کا حال جو تھا سو تھا (یعنی اس کے ساتھ ایک بڑی جماعت تھی) وحشی کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہی میں نے دیکھا کہ مسیلمہ ایک دیوار کے شگاف میں کھڑا ہے، گویا کہ خاکستری رنگ کا اونٹ ہے اور پریشان سر ہے۔ میں نے وہی حربہ (جس سے حمزہ رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا) اس کی چھاتی کے درمیان مارا اور اس کے دونوں کندھوں کے آرپار کر دیا پھر مسیلمہ کی طرف ایک انصاری نے دوڑ کر اس کی کھوپڑی پر تلوار مار دی (یعنی گردن جدا کر دی)۔[مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1623]
