Arabic (Original)
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ كُنْتُ أَنَا وَجَارٌ، لِي مِنَ الأَنْصَارِ فِي بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ زَيْدٍ، وَهْىَ مِنْ عَوَالِي الْمَدِينَةِ، وَكُنَّا نَتَنَاوَبُ النُّزُولَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْزِلُ يَوْمًا وَأَنْزِلُ يَوْمًا، فَإِذَا نَزَلْتُ جِئْتُهُ بِخَبَرِ ذَلِكَ الْيَوْمِ مِنَ الْوَحْىِ وَغَيْرِهِ، وَإِذَا نَزَلَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَنَزَلَ صَاحِبِي الأَنْصَارِيُّ يَوْمَ نَوْبَتِهِ، فَضَرَبَ بَابِي ضَرْبًا شَدِيدًا. فَقَالَ أَثَمَّ هُوَ فَفَزِعْتُ فَخَرَجْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ قَدْ حَدَثَ أَمْرٌ عَظِيمٌ. قَالَ فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ فَإِذَا هِيَ تَبْكِي فَقُلْتُ طَلَّقَكُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ لاَ أَدْرِي. ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ وَأَنَا قَائِمٌ أَطَلَّقْتَ نِسَاءَكَ قَالَ " لاَ ". فَقُلْتُ اللَّهُ أَكْبَرُ.
English Translation
Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him) narrates: My Ansari neighbour and I lived in Banu Umayya bin Zayd, which is among the elevated areas of Madinah al-Munawwara. We used to visit the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) in turns — one day he would go and one day I would go. On the day I went, I would bring him the news of that day's revelation and other matters, and when he went, he would do the same. One day my Ansari companion, returning from his turn, knocked on my door vigorously and asked: Is he (Umar) here? I came out alarmed. He said: A grave matter has occurred. So I went to (my daughter) Hadrat Hafsa (may Allah be well pleased with her), and she was weeping. I asked: Has the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) divorced you? She said: I do not know. Then I went to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and, while standing, submitted: Have you divorced your wives? He (blessings and peace of Allah be upon him) declared: No. So I said (with joy): Allahu Akbar!
Urdu Translation
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میں اور میرا ایک انصاری پڑوسی بنی امیہ بن زید میں رہتے تھے، جو مدینہ منورہ کے بالائی علاقوں میں سے ہے۔ ہم باری باری نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا کرتے تھے۔ ایک دن وہ آتا اور ایک دن میں آتا۔ جس دن میں جاتا اس دن کی وحی اور دیگر باتوں کی اسے خبر دے دیتا، اور جب وہ جاتا تو وہ بھی ایسا ہی کرتا۔ ایک دن وہ میرا انصاری ساتھی اپنی باری کے دن (واپس آ کر) میرا دروازہ بہت زور سے کھٹکھٹانے لگا اور پوچھا: کیا وہ (عمر) یہاں ہیں؟ میں گھبرا کر باہر آیا۔ وہ کہنے لگا: بڑا معاملہ پیش آ گیا ہے۔ تو میں (اپنی بیٹی) حضرت اُمّ المؤمنین حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس گیا، وہ رو رہی تھیں۔ میں نے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے تمہیں طلاق دے دی ہے؟ انہوں نے فرمایا: مجھے نہیں معلوم۔ پھر میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کھڑے کھڑے عرض کیا: کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہیں۔ تو میں نے (خوشی سے) کہا: اللہ اکبر!
