Arabic (Original)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ اسْتَفْتَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ الأَنْصَارِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ، تُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اقْضِهِ عَنْهَا ". وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ إِذَا بَلَغَتِ الإِبِلُ عِشْرِينَ، فَفِيهَا أَرْبَعُ شِيَاهٍ، فَإِنْ وَهَبَهَا قَبْلَ الْحَوْلِ أَوْ بَاعَهَا، فِرَارًا وَاحْتِيَالاً لإِسْقَاطِ الزَّكَاةِ، فَلاَ شَىْءَ عَلَيْهِ، وَكَذَلِكَ إِنْ أَتْلَفَهَا فَمَاتَ، فَلاَ شَىْءَ فِي مَالِهِ.
English Translation
Hadrat Abdullah bin Abbas (may Allah be well pleased with them both) narrates that Hadrat Sa'd bin Ubada al-Ansari (may Allah be well pleased with him) sought a ruling from the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) about a vow his mother had made but passed away before fulfilling it. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) declared: 'Fulfill it on her behalf.' Some people said: When camels reach twenty, four sheep are due as zakat. But if the owner gives them away or sells them before the year is completed, fleeing from zakat through trickery, then nothing is due from him. Likewise, if he destroys them and then dies, nothing is due from his estate.
Urdu Translation
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے ایک نذر کے بارے میں مسئلہ پوچھا جو ان کی والدہ پر تھی اور ان کا انتقال نذر پوری کرنے سے پہلے ہو گیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ان کی طرف سے تو پوری کر دے۔ بعض لوگوں نے کہا: جب اونٹ بیس ہو جائیں تو ان میں چار بکریاں لازم ہیں۔ لیکن اگر مالک سال پورا ہونے سے پہلے انہیں ہبہ کر دے یا بیچ دے، زکوٰۃ ختم کرنے کے حیلے سے، تو اس پر کچھ واجب نہیں۔ اسی طرح اگر اس نے انہیں ضائع کر دیا اور مر گیا تو اس کے مال سے بھی زکوٰۃ نہیں۔
