Arabic (Original)
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ سَمِعْتُ شَقِيقًا، يَقُولُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَسَمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قِسْمَةً كَبَعْضِ مَا كَانَ يَقْسِمُ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ وَاللَّهِ إِنَّهَا لَقِسْمَةٌ مَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ. قُلْتُ أَمَّا أَنَا لأَقُولَنَّ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَيْتُهُ وَهْوَ فِي أَصْحَابِهِ فَسَارَرْتُهُ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَتَغَيَّرَ وَجْهُهُ وَغَضِبَ، حَتَّى وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَخْبَرْتُهُ ثُمَّ قَالَ " قَدْ أُوذِيَ مُوسَى بِأَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَصَبَرَ ".
English Translation
It is narrated by Hadrat `Hadrat Abdullah that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) divided and distributed something as he used to do for some of his distributions. A man from the Ansar said, "By Allah, in this division the pleasure of Allah has not been intended." I said, "I will definitely tell this to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)." So I went to him while he was sitting with his companions and told him of it secretly. That was hard upon the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and the color of his face changed, and he became so angry that I wished I had not told him. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) then said, "Moses (upon him be peace) was harmed with more than this, yet he remained patient
Urdu Translation
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ان سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ( جنگ حنین ) میں کچھ مال تقسیم کیا جیسا کہ آپ ہمیشہ تقسیم کیا کرتے تھے۔ اس پر قبیلہ انصار کے ایک شخص نے کہا کہ اللہ کی قسم! اس تقسیم سے اللہ کی رضا مندی حاصل کرنا مقصود نہیں تھا۔ میں نے کہا کہ یہ بات میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے کہوں گا۔ چنانچہ میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف رکھتے تھے، میں نے چپکے سے یہ بات آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے کہی۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی یہ بات بڑی ناگوار گزری اور آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور آپ غصہ ہو گئے یہاں تک کہ میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ کاش میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کی خبر نہ دی ہوتی پھر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا موسیٰ علیہ السلام کو اس سے بھی زیادہ تکلیف پہنچائی گئی تھی لیکن انہوں نے صبر کیا۔
