Arabic (Original)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها أَنَّ يَهُودَ، أَتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكُمْ. فَقَالَتْ عَائِشَةُ عَلَيْكُمْ، وَلَعَنَكُمُ اللَّهُ، وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ. قَالَ " مَهْلاً يَا عَائِشَةُ، عَلَيْكِ بِالرِّفْقِ، وَإِيَّاكِ وَالْعُنْفَ وَالْفُحْشَ ". قَالَتْ أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا قَالَ " أَوَلَمْ تَسْمَعِي مَا قُلْتُ رَدَدْتُ عَلَيْهِمْ، فَيُسْتَجَابُ لِي فِيهِمْ، وَلاَ يُسْتَجَابُ لَهُمْ فِيَّ ".
English Translation
It is narrated by Hadrat `Abdullah bin Mulaika that `Hadrat Aisha said that the Jews came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and said, "As-Samu 'Alaikum" (death be on you). `Hadrat Aisha said (to them), "(Death) be on you, and may Allah curse you and shower His wrath upon you!" the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, "Be calm, O `Hadrat Aisha ! You should be kind and lenient, and beware of harshness and Fuhsh (i.e. bad words)." She said (to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)), "Haven't you heard what they (Jews) have said?" He said, "Haven't you heard what I have said (to them)? I said the same to them, and my invocation against them will be accepted while theirs against me will be rejected (by Allah)
Urdu Translation
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالوہاب ثقفی نے خبر دی، انہیں ایوب سختیانی نے، انہیں عبداللہ بن ابی ملیکہ نے اور انہیں حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہ کچھ یہودی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے یہاں آئے اور کہا «السام عليكم.» ( تم پر موت آئے ) اس پر حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا «عليكم، ولعنكم الله، وغضب الله عليكم.» کہ تم پر بھی موت آئے اور اللہ کی تم پر لعنت ہو اور اس کا غضب تم پر نازل ہو۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا، ( ٹھہرو ) حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ! تمہیں نرم خوئی اختیار کرنے چاہیے سختی اور بد زبانی سے بچنا چاہیئے۔ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے ان کی بات نہیں سنی، نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم نے انہیں میرا جواب نہیں سنا، میں نے ان کی بات انہیں پر لوٹا دی اور ان کے حق میں میری بددعا قبول ہو جائے گی۔ لیکن میرے حق میں ان کی بددعا قبول ہی نہ ہو گی۔
