Sahih al-BukhariProphetic Commentary on the Qur'an (Tafseer of the Prophet (pbuh))#4901Sahih
Arabic (Original)
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنْتُ مَعَ عَمِّي فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَىٍّ ابْنَ سَلُولَ يَقُولُ لاَ تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا. وَقَالَ أَيْضًا لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ. فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَمِّي فَذَكَرَ عَمِّي لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَىٍّ وَأَصْحَابِهِ، فَحَلَفُوا مَا قَالُوا، فَصَدَّقَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَذَّبَنِي، فَأَصَابَنِي هَمٌّ لَمْ يُصِبْنِي مِثْلُهُ، فَجَلَسْتُ فِي بَيْتِي، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ} إِلَى قَوْلِهِ {هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لاَ تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ} إِلَى قَوْلِهِ {لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ} فَأَرْسَلَ إِلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَرَأَهَا عَلَىَّ ثُمَّ قَالَ " إِنَّ اللَّهَ قَدْ صَدَّقَكَ ".
English Translation
It is narrated by Hadrat Zaid bin Arqam that I was with my uncle and I heard `Abdullah bin Ubai bin Salul, saying, "Don't spend on those who are with Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) that they may disperse and go away from him." He also said, "If we return to Medina, surely, the more honorable will expel the meaner." So I informed my uncle of that and then my uncle informed Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) thereof. Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) sent for `Abdullah bin Ubai and his companions. They swore that they did not say anything of that sort Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) deemed their statement true and rejected mine. Thereof I became as distressed as I have never been before, and stayed at home. Then Allah revealed (Surat Al-Munafiqin): 'When the hypocrites come to you.....(63.1) They are the ones who say: Spend nothing on those who are with Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him)..(63.7) Verily the more honorable will expel therefrom the meaner..' (63.7-8) Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) sent for me and recited that Sura for me and said, "Allah has confirmed your statement
Urdu Translation
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسرائیل بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ان سے ابواسحاق سبیعی نے بیان کیا اور ان سے زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ میں اپنے چچا ( سعد بن عبادہ یا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما ) کے ساتھ تھا میں نے عبداللہ بن ابی ابن سلول کو کہتے سنا کہ جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ہیں ان پر خرچ مت کرو تاکہ وہ ان کے پاس سے بھاگ جائیں۔ یہ بھی کہا کہ اگر اب ہم مدینہ لوٹ کر جائیں گے تو عزت والا وہاں سے ذلیلوں کو نکال کر باہر کر دے گا۔ میں نے اس کی یہ بات چچا سے آ کر کہی اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کو بلوایا انہوں نے قسم کھا لی کہ ایسی کوئی بات انہوں نے نہیں کہی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ان کو سچا جانا اور مجھ کو جھوٹا سمجھا۔ مجھے اس اتنا صدمہ پہنچا کہ ایسا کبھی نہیں پہنچا ہو گا پھر میں گھر کے اندر بیٹھ گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل کی «إذا جاءك المنافقون» سے «هم الذين يقولون لا تنفقوا على من عند رسول الله» اور آیت «ليخرجن الأعز منها الأذل» تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلوایا اور میرے سامنے اس سورت کی تلاوت کی پھر فرمایا کہ اللہ نے تمہارے بیان کو سچا کر دیا ہے۔
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنْتُ مَعَ عَمِّي فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَىٍّ ابْنَ سَلُولَ يَقُولُ لاَ تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا. وَقَالَ أَيْضًا لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ. فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَمِّي فَذَكَرَ عَمِّي لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَىٍّ وَأَصْحَابِهِ، فَحَلَفُوا مَا قَالُوا، فَصَدَّقَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَذَّبَنِي، فَأَصَابَنِي هَمٌّ لَمْ يُصِبْنِي مِثْلُهُ، فَجَلَسْتُ فِي بَيْتِي، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ} إِلَى قَوْلِهِ {هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لاَ تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ} إِلَى قَوْلِهِ {لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ} فَأَرْسَلَ إِلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَرَأَهَا عَلَىَّ ثُمَّ قَالَ " إِنَّ اللَّهَ قَدْ صَدَّقَكَ ".
It is narrated by Hadrat Zaid bin Arqam that I was with my uncle and I heard `Abdullah bin Ubai bin Salul, saying, "Don't spend on those who are with Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) that they may disperse and go away from him." He also said, "If we return to Medina, surely, the more honorable will expel the meaner." So I informed my uncle of that and then my uncle informed Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) thereof. Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) sent for `Abdullah bin Ubai and his companions. They swore that they did not say anything of that sort Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) deemed their statement true and rejected mine. Thereof I became as distressed as I have never been before, and stayed at home. Then Allah revealed (Surat Al-Munafiqin): 'When the hypocrites come to you.....(63.1) They are the ones who say: Spend nothing on those who are with Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him)..(63.7) Verily the more honorable will expel therefrom the meaner..' (63.7-8) Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) sent for me and recited that Sura for me and said, "Allah has confirmed your statement
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسرائیل بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ان سے ابواسحاق سبیعی نے بیان کیا اور ان سے زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ میں اپنے چچا ( سعد بن عبادہ یا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما ) کے ساتھ تھا میں نے عبداللہ بن ابی ابن سلول کو کہتے سنا کہ جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ہیں ان پر خرچ مت کرو تاکہ وہ ان کے پاس سے بھاگ جائیں۔ یہ بھی کہا کہ اگر اب ہم مدینہ لوٹ کر جائیں گے تو عزت والا وہاں سے ذلیلوں کو نکال کر باہر کر دے گا۔ میں نے اس کی یہ بات چچا سے آ کر کہی اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کو بلوایا انہوں نے قسم کھا لی کہ ایسی کوئی بات انہوں نے نہیں کہی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ان کو سچا جانا اور مجھ کو جھوٹا سمجھا۔ مجھے اس اتنا صدمہ پہنچا کہ ایسا کبھی نہیں پہنچا ہو گا پھر میں گھر کے اندر بیٹھ گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل کی «إذا جاءك المنافقون» سے «هم الذين يقولون لا تنفقوا على من عند رسول الله» اور آیت «ليخرجن الأعز منها الأذل» تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلوایا اور میرے سامنے اس سورت کی تلاوت کی پھر فرمایا کہ اللہ نے تمہارے بیان کو سچا کر دیا ہے۔