Arabic (Original)
حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، عَنْ مُعَاذَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَسْتَأْذِنُ فِي يَوْمِ الْمَرْأَةِ مِنَّا بَعْدَ أَنْ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ {تُرْجِئُ مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكَ}. فَقُلْتُ لَهَا مَا كُنْتِ تَقُولِينَ قَالَتْ كُنْتُ أَقُولُ لَهُ إِنْ كَانَ ذَاكَ إِلَىَّ فَإِنِّي لاَ أُرِيدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ أُوثِرَ عَلَيْكَ أَحَدًا. تَابَعَهُ عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ سَمِعَ عَاصِمًا.
English Translation
It is narrated by Hadrat Mu`adha that `Hadrat Aisha said, "Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) used to take the permission of that wife with whom he was supposed to stay overnight if he wanted to go to one other than her, after this Verse was revealed:-- "You (O Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him)) can postpone (the turn of) whom you will of them (your wives) and you may receive any (of them) whom you will; and there is no blame on you if you invite one whose turn you have set aside (temporarily). (33.51) I asked Hadrat Aisha, "What did you use to say (in this case)?" She said, "I used to say to him, "If I could deny you the permission (to go to your other wives) I would not allow your favor to be bestowed on any other person
Urdu Translation
ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو عاصم احول نے خبر دی، انہیں حضرت معاذہ نے اور انہیں حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس آیت کے نازل ہونے کے بعد بھی «ترجئ من تشاء منهن وتؤوي إليك من تشاء ومن ابتغيت ممن عزلت فلا جناح عليك» کہ ”ان میں سے آپ جس کو چاہیں اپنے سے دور رکھیں اور جن کو آپ نے الگ کر رکھا تھا ان میں سے کسی کو طلب کر لیں جب بھی آپ پر کوئی گناہ نہیں۔“ اگر ( ازواج مطہرات ) میں سے کسی کی باری میں کسی دوسری بیوی کے پاس جانا چاہتے تو جن کی باری ہوتی ان سے اجازت لیتے تھے ( حضرت معاذہ نے بیان کیا کہ ) میں نے اس پر حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا کہ ایسی صورت میں آپ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے کیا کہتی تھیں؟ انہوں نے فرمایا کہ میں تو یہ عرض کر دیتی تھی کہ یا رسول اللہ! اگر یہ اجازت آپ مجھ سے لے رہے ہیں تو میں تو اپنی باری کا کسی دوسرے پر ایثار نہیں کر سکتی۔ اس روایت کی متابعت عباد بن عباد نے کی، انہوں نے عاصم سے سنا۔
