Arabic (Original)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ اسْتَأْذَنَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَبْلَ مَوْتِهَا عَلَى عَائِشَةَ، وَهْىَ مَغْلُوبَةٌ قَالَتْ أَخْشَى أَنْ يُثْنِيَ عَلَىَّ. فَقِيلَ ابْنُ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمِنْ وُجُوهِ الْمُسْلِمِينَ. قَالَتِ ائْذَنُوا لَهُ. فَقَالَ كَيْفَ تَجِدِينَكِ قَالَتْ بِخَيْرٍ إِنِ اتَّقَيْتُ. قَالَ فَأَنْتِ بِخَيْرٍ ـ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ـ زَوْجَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ يَنْكِحْ بِكْرًا غَيْرَكِ، وَنَزَلَ عُذْرُكِ مِنَ السَّمَاءِ. وَدَخَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ خِلاَفَهُ فَقَالَتْ دَخَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَأَثْنَى عَلَىَّ وَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ نِسْيًا مَنْسِيًّا.
English Translation
It is narrated by Hadrat Ibn Abu Mulaika that Hadrat Ibn `Abbas asked permission to visit Hadrat Aisha before her death, and at that time she was in a state of agony. She then said. "I am afraid that he will praise me too much." And then it was said to her, "He is the cousin of Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) and one of the prominent Muslims." Then she said, "Allow him to enter." (When he entered) he said, "How are you?" She replied, "I am Alright if I fear (Allah)." Hadrat Ibn `Abbas said, "Allah willing, you are Alright as you are the wife of Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) and he did not marry any virgin except you and proof of your innocence was revealed from the Heaven." Later on Ibn Az-Zubair entered after him and `Hadrat Aisha said to him, "Hadrat Ibn `Abbas came to me and praised me greatly, but I wish that I was a thing forgotten and out of sight
Urdu Translation
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے، ان سے عمر بن سعید بن ابی حسین نے، ان سے ابن ابی ملیکہ نے، کہا کہ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی وفات سے تھوڑی دیر پہلے، جبکہ وہ نزع کی حالت میں تھیں، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ان کے پاس آنے کی اجازت چاہی، حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ میری تعریف نہ کرنے لگیں۔ کسی نے عرض کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں اور خود بھی عزت دار ہیں ( اس لیے آپ کو اجازت دے دینی چاہئے ) اس پر انہوں نے کہا کہ پھر انہیں اندر بلا لو۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ان سے پوچھا کہ آپ کس حال میں ہیں؟ اس پر انہوں نے فرمایا کہ اگر میں اللہ کے نزدیک اچھی ہوں تو سب اچھا ہی اچھا ہے۔ اس پر حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا کہ ان شاءاللہ آپ اچھی ہی رہیں گی۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی اُمّ المؤمنین زوجہ مطہرہ ہیں اور آپ کے سوا نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے کسی کنواری عورت سے نکاح نہیں فرمایا اور آپ کی برات ( قرآن مجید میں ) آسمان سے نازل ہوئی۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے تشریف لے جانے کے بعد آپ کی خدمت میں ابن حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما حاضر ہوئے۔ محترمہ نے ان سے فرمایا کہ ابھی حضرت ابن عباس آئے تھے اور میری تعریف کی، میں تو چاہتی ہوں کہ کاش میں ایک بھولی بسری گمنام ہوتی۔
