Arabic (Original)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ، أَخْبَرَهُ عَنْ عَلِيٍّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ قَالَ " أَلاَ تُصَلِّيَانِ ". {رَجْمًا بِالْغَيْبِ} لَمْ يَسْتَبِنْ. {فُرُطًا} نَدَمًا {سُرَادِقُهَا} مِثْلُ السُّرَادِقِ، وَالْحُجْرَةِ الَّتِي تُطِيفُ بِالْفَسَاطِيطِ، {يُحَاوِرُهُ} مِنَ الْمُحَاوَرَةِ {لَكِنَّا هُوَ اللَّهُ رَبِّي} أَىْ لَكِنْ أَنَا هُوَ اللَّهُ رَبِّي ثُمَّ حَذَفَ الأَلِفَ وَأَدْغَمَ إِحْدَى النُّونَيْنِ فِي الأُخْرَى. {زَلَقًا} لاَ يَثْبُتُ فِيهِ قَدَمٌ. {هُنَالِكَ الْوَلاَيَةُ} مَصْدَرُ الْوَلِيِّ. {عُقُبًا} عَاقِبَةٌ وَعُقْبَى وَعُقْبَةٌ وَاحِدٌ وَهْىَ الآخِرَةُ قِبَلاً وَقُبُلاً وَقَبَلاً اسْتِئْنَافًا {لِيُدْحِضُوا} لِيُزِيلُوا، الدَّحْضُ الزَّلَقُ.
English Translation
It is narrated by Hadrat Ali al-Murtada (may Allah ennoble his countenance) that one night Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) came to him and Hadrat Fatima and said, "Don't you (both offer the (Tahajjud) prayer?" `Hadrat Ali said, 'When Allah wishes us to get up, we get up." The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) then recited: 'But man is more quarrelsome than anything.' (18.54) (See Hadith No. 227,Vol)
Urdu Translation
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے، کہا مجھے علی بن حسین نے خبر دی، انہیں حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے خبر دی اور انہیں علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم رات کے وقت ان کے اور فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر آئے اور فرمایا۔ تم لوگ تہجد کی نماز نہیں پڑھتے ( آخر حدیث تک ) ۔ «رجما بالغيب» یعنی سنی سنائی اور ان کو خود کچھ علم نہیں۔ «فرطا» ندامت، شرمندگی۔ «سرادقها» یعنی قناتوں کی طرح سب طرف سے ان کو آگ گھیر لے گی جیسے کوٹھری کو سب طرف سے خیمے گھیر لیتے ہیں۔ «يحاوره»، «محاورة» سے نکلا ہے یعنی گفتگو کرنا، تکرار کرنا۔ «لكنا هو الله ربي» اصل میں «لكن أنا هو الله ربي» تھا «أنا» کا ہمزہ حذف کر کے نون کو نون میں ادغام کر دیا «لكنا» ہو گیا۔ «خلالهما نهرا» یعنی «بينهما» ان کے بیچ میں۔ «زلقا» چکنا، صاف جس پر پاؤں پھسلے ( جمے نہیں ) ۔ «هنالك الولاية»، «ولايت»، «ولي» کا مصدر ہے۔ «عقبا»، «عاقبت» اسی طرح «عقبى» اور «عقبة» سب کا ایک ہی معنی ہے یعنی آخرت۔ «قبلا» اور «قبلا» اور «قبلا» ( تینوں طرح پڑھا ہے ) یعنی سامنے آنا۔ «ليدحضوا»، «دحض» سے نکلا ہے یعنی پھسلانا ( مطلب یہ ہے کہ حق بات کو ناحق کریں ) ۔
