It is narrated by Hadrat Ibn `Umar that a man came to him (while two groups of Muslims were fighting) and said, "O Abu `Hadrat Abdur Rahman! Don't you hear what Allah has mentioned in His Book: 'And if two groups of believers fight against each other...' (49.9) So what prevents you from fighting as Allah has mentioned in His Book?"' Hadrat Ibn `Umar said, "O son of my brother! I would rather be blamed for not fighting because of this Verse than to be blamed because of another Verse where Allah says: 'And whoever kills a believer intentionally..." (4.93) Then that man said, "Allah says:-- 'And fight them until there is no more afflictions (worshipping other besides Allah) and the religion (i.e. worship) will be all for Allah (Alone)" (8.39) Hadrat Ibn `Umar said, "We did this during the lifetime of Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) when the number of Muslims was small, and a man was put to trial because of his religion, the pagans would either kill or chain him; but when the Muslims increased (and Islam spread), there was no persecution." When that man saw that Hadrat Ibn `Umar did not agree to his proposal, he said, "What is your opinion regarding Ali al-Murtada (may Allah ennoble his countenance) and `Hadrat Uthman?" Hadrat Ibn `Umar said, "What is my opinion regarding Ali al-Murtada (may Allah ennoble his countenance) and `Hadrat Uthman? As for `Hadrat Uthman, Allah forgave him and you disliked to forgive him, and Ali al-Murtada (may Allah ennoble his countenance) is the cousin and son-in-law of Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him)." Then he pointed out with his hand and said, "And that is his daughter's (house) which you can see
Urdu Translation
ہم سے حسن بن عبدالعزیز نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن یحییٰ نے، کہا ہم سے حیوہ بن شریح نے، انہوں نے بکر بن عمرو سے، انہوں نے بکیر سے، انہوں نے نافع سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کہ ایک شخص ( حبان یا علاء بن عرار نامی ) نے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن! آپ نے قرآن کی یہ آیت نہیں سنی «وإن طائفتان من المؤمنين اقتتلوا» کہ ”جب مسلمانوں کی دو جماعتیں لڑنے لگیں“ الخ، اس آیت کے بموجب تم ( علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما دونوں سے ) کیوں نہیں لڑتے جیسے اللہ نے فرمایا «فقاتلوا التي تبغيإ» ۔ انہوں نے کہا میرے بھتیجے! اگر میں اس آیت کی تاویل کر کے مسلمانوں سے نہ لڑوں تو یہ مجھ کو اچھا معلوم ہوتا ہے بہ نسبت اس کے کہ میں اس آیت «ومن يقتل مؤمنا متعمدا» کی تاویل کروں۔ وہ شخص کہنے لگا اچھا اس آیت کو کیا کرو گے جس میں مذکور ہے «وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة» کہ ”ان سے لڑو تاکہ فتنہ باقی نہ رہے اور سارا دین اللہ کا ہو جائے۔“ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا ( واہ، واہ ) یہ لڑائی تو ہم نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں کر چکے، اس وقت مسلمان بہت تھوڑے تھے اور مسلمان کو اسلام اختیار کرنے پر تکلیف دی جاتی۔ قتل کرتے، قید کرتے یہاں تک کہ اسلام پھیل گیا۔ مسلمان بہت ہو گئے اب فتنہ جو اس آیت میں مذکور ہے وہ کہاں رہا۔ جب اس شخص نے دیکھا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کسی طرح لڑائی پر اس کے موافق نہیں ہوتے تو کہنے لگا اچھا بتلاؤ علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں تمہارا کیا اعتقاد ہے؟ انہوں نے کہا ہاں یہ کہو تو سنو، علی اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے بارے میں اپنا اعتقاد بیان کرتا ہوں۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جو قصور تم بیان کرتے ہو ( کہ وہ جنگ احد میں بھاگ نکلے ) تو اللہ نے ان کا یہ قصور معاف کر دیا مگر تم کو یہ معافی پسند نہیں ( جب تو اب تک ان پر قصور لگاتے جاتے ہو ) اور علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم تو ( سبحان اللہ ) نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور آپ داماد بھی تھے اور ہاتھ سے اشارہ کر کے بتلایا یہ ان کا گھر ہے جہاں تم دیکھ رہے ہو۔
تخریج الحدیث
یہ حدیث درج ذیل کتب میں بھی آئی ہے (4)
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
Sahih al-Bukhari
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَتَاهُ رَجُلاَنِ فِي فِتْنَةِ اب…
Sahih al-Bukhari
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَتَاهُ رَجُلاَنِ فِي فِتْنَةِ اب…
Sahih al-Bukhari
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَتَاهُ رَجُلاَنِ فِي فِتْنَةِ اب…
It is narrated by Hadrat Ibn `Umar that a man came to him (while two groups of Muslims were fighting) and said, "O Abu `Hadrat Abdur Rahman! Don't you hear what Allah has mentioned in His Book: 'And if two groups of believers fight against each other...' (49.9) So what prevents you from fighting as Allah has mentioned in His Book?"' Hadrat Ibn `Umar said, "O son of my brother! I would rather be blamed for not fighting because of this Verse than to be blamed because of another Verse where Allah says: 'And whoever kills a believer intentionally..." (4.93) Then that man said, "Allah says:-- 'And fight them until there is no more afflictions (worshipping other besides Allah) and the religion (i.e. worship) will be all for Allah (Alone)" (8.39) Hadrat Ibn `Umar said, "We did this during the lifetime of Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) when the number of Muslims was small, and a man was put to trial because of his religion, the pagans would either kill or chain him; but when the Muslims increased (and Islam spread), there was no persecution." When that man saw that Hadrat Ibn `Umar did not agree to his proposal, he said, "What is your opinion regarding Ali al-Murtada (may Allah ennoble his countenance) and `Hadrat Uthman?" Hadrat Ibn `Umar said, "What is my opinion regarding Ali al-Murtada (may Allah ennoble his countenance) and `Hadrat Uthman? As for `Hadrat Uthman, Allah forgave him and you disliked to forgive him, and Ali al-Murtada (may Allah ennoble his countenance) is the cousin and son-in-law of Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him)." Then he pointed out with his hand and said, "And that is his daughter's (house) which you can see
ہم سے حسن بن عبدالعزیز نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن یحییٰ نے، کہا ہم سے حیوہ بن شریح نے، انہوں نے بکر بن عمرو سے، انہوں نے بکیر سے، انہوں نے نافع سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کہ ایک شخص ( حبان یا علاء بن عرار نامی ) نے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن! آپ نے قرآن کی یہ آیت نہیں سنی «وإن طائفتان من المؤمنين اقتتلوا» کہ ”جب مسلمانوں کی دو جماعتیں لڑنے لگیں“ الخ، اس آیت کے بموجب تم ( علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما دونوں سے ) کیوں نہیں لڑتے جیسے اللہ نے فرمایا «فقاتلوا التي تبغيإ» ۔ انہوں نے کہا میرے بھتیجے! اگر میں اس آیت کی تاویل کر کے مسلمانوں سے نہ لڑوں تو یہ مجھ کو اچھا معلوم ہوتا ہے بہ نسبت اس کے کہ میں اس آیت «ومن يقتل مؤمنا متعمدا» کی تاویل کروں۔ وہ شخص کہنے لگا اچھا اس آیت کو کیا کرو گے جس میں مذکور ہے «وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة» کہ ”ان سے لڑو تاکہ فتنہ باقی نہ رہے اور سارا دین اللہ کا ہو جائے۔“ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا ( واہ، واہ ) یہ لڑائی تو ہم نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں کر چکے، اس وقت مسلمان بہت تھوڑے تھے اور مسلمان کو اسلام اختیار کرنے پر تکلیف دی جاتی۔ قتل کرتے، قید کرتے یہاں تک کہ اسلام پھیل گیا۔ مسلمان بہت ہو گئے اب فتنہ جو اس آیت میں مذکور ہے وہ کہاں رہا۔ جب اس شخص نے دیکھا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کسی طرح لڑائی پر اس کے موافق نہیں ہوتے تو کہنے لگا اچھا بتلاؤ علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں تمہارا کیا اعتقاد ہے؟ انہوں نے کہا ہاں یہ کہو تو سنو، علی اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے بارے میں اپنا اعتقاد بیان کرتا ہوں۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جو قصور تم بیان کرتے ہو ( کہ وہ جنگ احد میں بھاگ نکلے ) تو اللہ نے ان کا یہ قصور معاف کر دیا مگر تم کو یہ معافی پسند نہیں ( جب تو اب تک ان پر قصور لگاتے جاتے ہو ) اور علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم تو ( سبحان اللہ ) نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور آپ داماد بھی تھے اور ہاتھ سے اشارہ کر کے بتلایا یہ ان کا گھر ہے جہاں تم دیکھ رہے ہو۔