It is narrated by Hadrat Ibn `Abbas that Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) delivered a sermon and said, "O people! You will be gathered before Allah barefooted, naked and not circumcised." Then (quoting Qur'an) he said:-- "As We began the first creation, We shall repeat it. A promise We have undertaken: Truly We shall do it.." (21.104) The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) then said, "The first of the human beings to be dressed on the Day of Resurrection, will be Abraham (upon him be peace). Lo! Some men from my followers will be brought and then (the angels) will drive them to the left side (Hell-Fire). I will say. 'O my Lord! (They are) my companions!' Then a reply will come (from the Almighty), 'You do not know what they did after you.' I will say as the pious slave (the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) Jesus (blessings and peace of Allah be upon him)) said: And I was a witness over them while I dwelt amongst them. When You took me up, You were the Watcher over them and You are a Witness to all things.' (5.117) Then it will be said, "These people have continued to be apostates since you left them
Urdu Translation
ہم سے حضرت ابوالولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم کو مغیرہ بن نعمان نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے سعید بن جبیر سے سنا اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا کہ اے لوگو! تم اللہ کے پاس جمع کئے جاؤ گے، ننگے پاؤں ننگے جسم اور بغیر ختنہ کے، پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «كما بدأنا أول خلق نعيده وعدا علينا إنا كنا فاعلين» ”جس طرح ہم نے اول بار پیدا کرنے کے وقت ابتداء کی تھی، اسی طرح اسے دوبارہ زندہ کر دیں گے، ہمارے ذمہ وعدہ ہے، ہم ضرور اسے کر کے ہی رہیں گے۔“ آخر آیت تک۔ پھر فرمایا قیامت کے دن تمام مخلوق میں سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو کپڑا پہنایا جائے گا۔ ہاں اور میری امت کے کچھ لوگوں کو لایا جائے گا اور انہیں جہنم کی بائیں طرف لے جایا جائے گا۔ میں عرض کروں گا، میرے رب! یہ تو میرے امتی ہیں؟ مجھ سے کہا جائے گا، آپ کو نہیں معلوم ہے کہ انہوں نے آپ کے بعد نئی نئی باتیں شریعت میں نکالی تھیں۔ اس وقت میں بھی وہی کہوں گا جو عبد صالح عیسیٰ علیہ السلام نے کہا ہو گا «وكنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم فلما توفيتني كنت أنت الرقيب عليهم» کہ ”میں ان کا حال دیکھتا رہا جب تک میں ان کے درمیان رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا ( جب سے ) تو ہی ان پر نگراں ہے۔“ مجھے بتایا جائے گا کہ آپ کی جدائی کے بعد یہ لوگ دین سے پھر گئے تھے۔
It is narrated by Hadrat Ibn `Abbas that Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) delivered a sermon and said, "O people! You will be gathered before Allah barefooted, naked and not circumcised." Then (quoting Qur'an) he said:-- "As We began the first creation, We shall repeat it. A promise We have undertaken: Truly We shall do it.." (21.104) The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) then said, "The first of the human beings to be dressed on the Day of Resurrection, will be Abraham (upon him be peace). Lo! Some men from my followers will be brought and then (the angels) will drive them to the left side (Hell-Fire). I will say. 'O my Lord! (They are) my companions!' Then a reply will come (from the Almighty), 'You do not know what they did after you.' I will say as the pious slave (the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) Jesus (blessings and peace of Allah be upon him)) said: And I was a witness over them while I dwelt amongst them. When You took me up, You were the Watcher over them and You are a Witness to all things.' (5.117) Then it will be said, "These people have continued to be apostates since you left them
ہم سے حضرت ابوالولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم کو مغیرہ بن نعمان نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے سعید بن جبیر سے سنا اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا کہ اے لوگو! تم اللہ کے پاس جمع کئے جاؤ گے، ننگے پاؤں ننگے جسم اور بغیر ختنہ کے، پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «كما بدأنا أول خلق نعيده وعدا علينا إنا كنا فاعلين» ”جس طرح ہم نے اول بار پیدا کرنے کے وقت ابتداء کی تھی، اسی طرح اسے دوبارہ زندہ کر دیں گے، ہمارے ذمہ وعدہ ہے، ہم ضرور اسے کر کے ہی رہیں گے۔“ آخر آیت تک۔ پھر فرمایا قیامت کے دن تمام مخلوق میں سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو کپڑا پہنایا جائے گا۔ ہاں اور میری امت کے کچھ لوگوں کو لایا جائے گا اور انہیں جہنم کی بائیں طرف لے جایا جائے گا۔ میں عرض کروں گا، میرے رب! یہ تو میرے امتی ہیں؟ مجھ سے کہا جائے گا، آپ کو نہیں معلوم ہے کہ انہوں نے آپ کے بعد نئی نئی باتیں شریعت میں نکالی تھیں۔ اس وقت میں بھی وہی کہوں گا جو عبد صالح عیسیٰ علیہ السلام نے کہا ہو گا «وكنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم فلما توفيتني كنت أنت الرقيب عليهم» کہ ”میں ان کا حال دیکھتا رہا جب تک میں ان کے درمیان رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا ( جب سے ) تو ہی ان پر نگراں ہے۔“ مجھے بتایا جائے گا کہ آپ کی جدائی کے بعد یہ لوگ دین سے پھر گئے تھے۔
العاشر: عن ابن عباس، رضي الله عنهما، قال: قام فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم بموعظة فقال: "يا أيها الناس إنكم محشورون إلى الله تعالى حفاة عراة غرلاً {كما بدأنا أول خلق…