Arabic (Original)
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوْشَبٍ الطَّائِفِيُّ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَكَانَ، عُثْمَانِيًّا فَقَالَ لاِبْنِ عَطِيَّةَ وَكَانَ عَلَوِيًّا إِنِّي لأَعْلَمُ مَا الَّذِي جَرَّأَ صَاحِبَكَ عَلَى الدِّمَاءِ سَمِعْتُهُ يَقُولُ بَعَثَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَالزُّبَيْرَ، فَقَالَ " ائْتُوا رَوْضَةَ كَذَا، وَتَجِدُونَ بِهَا امْرَأَةً أَعْطَاهَا حَاطِبٌ كِتَابًا ". فَأَتَيْنَا الرَّوْضَةَ فَقُلْنَا الْكِتَابَ. قَالَتْ لَمْ يُعْطِنِي. فَقُلْنَا لَتُخْرِجِنَّ أَوْ لأُجَرِّدَنَّكِ. فَأَخْرَجَتْ مِنْ حُجْزَتِهَا، فَأَرْسَلَ إِلَى حَاطِبٍ فَقَالَ لاَ تَعْجَلْ، وَاللَّهِ مَا كَفَرْتُ وَلاَ ازْدَدْتُ لِلإِسْلاَمِ إِلاَّ حُبًّا، وَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِكَ إِلاَّ وَلَهُ بِمَكَّةَ مَنْ يَدْفَعُ اللَّهُ بِهِ عَنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ، وَلَمْ يَكُنْ لِي أَحَدٌ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَتَّخِذَ عِنْدَهُمْ يَدًا. فَصَدَّقَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم. قَالَ عُمَرُ دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَهُ، فَإِنَّهُ قَدْ نَافَقَ. فَقَالَ " مَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ، فَقَالَ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ ". فَهَذَا الَّذِي جَرَّأَهُ.
English Translation
(Hadrat Ali, may Allah ennoble his countenance, narrates:) The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) sent me and (Hadrat) Hadrat al-Zubayr (may Allah be well pleased with him) and declared: "Go to such-and-such garden; there you will find a woman to whom Hatib has given a letter." We reached the garden and said: (Give us) the letter. She said: No letter was given to me. We said: You must hand it over or I will strip you. She took it out from her waistband. He sent for Hatib, who submitted: Do not be hasty. By Allah! I have not disbelieved nor has my love for Islam lessened. Every one of your Companions had someone in Makkah through whom Allah protected their family and wealth, but I had no one. I wished to secure a favour with them. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) affirmed his truthfulness. Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him) submitted: Allow me to strike his neck; he has turned hypocrite. He declared: "What do you know? Perhaps Allah looked upon the people of Badr and said: Do as you wish." (Abu Abdur-Rahman said:) This is what emboldened your companion (Hadrat Ali) regarding bloodshed.
Urdu Translation
(حضرت علی کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے روایت ہے، فرماتے ہیں:) نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اور (حضرت) زبیر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کو بھیجا اور ارشاد فرمایا: "فلاں باغ میں جاؤ، وہاں ایک عورت ہوگی جسے حاطب نے خط دیا ہے۔" ہم باغ میں پہنچے اور کہا: خط (دو)۔ اس نے کہا: مجھے کوئی خط نہیں دیا گیا۔ ہم نے کہا: ضرور نکالو ورنہ کپڑے اتاروں گا۔ اس نے اپنے ازاربند سے نکالا۔ آپ نے حاطب کو بلوایا تو انہوں نے عرض کیا: جلدی نہ فرمائیے، اللہ کی قسم! نہ میں نے کفر کیا ہے اور نہ اسلام سے ہٹ کر محبت بڑھی ہے مگر اسلام ہی سے۔ آپ کے صحابہ میں سے ہر ایک کا مکے میں کوئی نہ کوئی تھا جس کے ذریعے اللہ ان کے اہل و مال کی حفاظت فرماتا تھا، مگر میرا کوئی نہ تھا۔ میں نے چاہا کہ ان کے پاس ایک احسان رکھ دوں۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی تصدیق فرمائی۔ حضرت عمر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے عرض کیا: مجھے اجازت دیں اس کی گردن ماروں، یہ منافق ہو گیا ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: "تمہیں کیا معلوم، شاید اللہ نے اہلِ بدر پر نظر فرمائی ہو اور فرمایا ہو: جو چاہو کرو۔" (ابوعبدالرحمٰن نے کہا:) یہی بات ہے جس نے آپ کے ساتھی (حضرت علی) کو خون (بہانے) کی جرأت دی۔
